چترال سے یاسین تک مہم، 5 ہزار میٹر بلند تھوئی پاس سمیت 4 درے عبور
چترال — قاشقر ٹریکرز نے چھ روزہ مشن جِنالیارسِن کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے بالائی چترال کی کوشٹ وادی سے گلگت بلتستان کی یاسین وادی تک دشوار گزار پہاڑی سفر مکمل کرلیا۔
مہم کے دوران ٹیم نے چار بلند پہاڑی درّے عبور کیے، جن میں 4,040 میٹر بلند ووز پاس، 4,500 میٹر بلند زنی پاس، 4,200 میٹر بلند شا جِنالی پاس اور 5,005 میٹر بلند تھوئی پاس شامل ہیں۔
قاشقر ٹریکرز کے مطابق مہم کا آغاز بالائی چترال کی کوشٹ وادی سے ہوا۔ ٹیم نے پہلے ووز پاس عبور کیا، جو ایک قدیم ٹریکنگ راستہ ہے اور ماضی میں غیر ملکی مہم جو بھی اس راستے کو استعمال کرتے رہے ہیں۔
اس کے بعد ٹیم نے زنی پاس عبور کیا، جہاں تاریخی ٹریک کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی گئی۔ مہم کے اگلے مرحلے میں شا جِنالی پاس عبور کرکے ٹیم یارخون وادی میں داخل ہوئی۔
مہم کا مشکل ترین مرحلہ 5,005 میٹر بلند تھوئی پاس کو عبور کرنا تھا۔ ٹیم نے بلند درہ کامیابی سے پار کرنے کے بعد پہاڑی علاقے سے اترتے ہوئے یاسین وادی کا رخ کیا اور وہاں پہنچ کر مشن مکمل کیا۔
قاشقر ٹریکرز کا کہنا ہے کہ مہم کا مقصد صرف ایک مشکل پہاڑی راستہ عبور کرنا نہیں تھا بلکہ چترال اور گلگت بلتستان کے درمیان موجود قدیم اور کم استعمال ہونے والے راستوں کو دوبارہ دریافت اور فعال کرنا بھی تھا۔
ٹیم کے مطابق گزشتہ پانچ برس سے قاشقر ٹریکرز کی جانب سے مختلف مہمات کے ذریعے متعدد بلند درّوں کو ایک ہی ٹریک میں جوڑنے اور نئے ٹریکنگ روٹس دریافت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
قاشقر ٹریکرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں ایڈونچر ٹورازم کے وسیع امکانات موجود ہیں، جبکہ نوجوانوں کو ٹریکنگ، کوہ پیمائی اور دیگر ایڈونچر اسپورٹس کی طرف راغب کرنے کے لیے مزید ایسے راستوں کی تلاش ضروری ہے۔
ٹیم نے مشن کی کامیاب تکمیل پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ جِنالیارسِن مہم نئے اور کم معروف پہاڑی راستوں کی تلاش کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔






