بچے یا خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے مقدمات میں قانونی جنگ لڑنے کے مراحل
کالم۔ قطرہ قطرہ
گلگت بلتستان میں گزشتہ دو ماہ کے دوران بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے کئی واقعات سامنے آنا انتہائی تشویشناک ہے۔ ان واقعات کے بعد عوامی سطح پر شدید تشویش اور ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ صرف ملزمان کی گرفتاری کافی نہیں بلکہ متاثرہ بچے یا خاتون کو انصاف دلانے کے لیے مقدمے کی ابتدا سے اختتام تک ہر قانونی، طبی، تفتیشی اور نفسیاتی مرحلے کو درست طریقے سے مکمل کرنا ضروری ہے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جنسی زیادتی کا واقعہ سامنے آنے کے بعد متاثرہ بچے یا خاتون کو سب سے پہلے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ اسے ملزم کے اثر، دباؤ یا دوبارہ خطرے سے دور رکھا جائے اور بار بار ملنے والے لوگوں، رشتہ داروں یا میڈیا کے سامنے واقعہ بیان کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ بچے سے بار بار پوچھ گچھ اس کے ذہنی صدمے میں اضافہ کر سکتی ہے اور اس کے بیان پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ والدین، سرپرست، اساتذہ اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ بچے کو تسلی دیں، اسے قصوروار نہ ٹھہرائیں اور نہ ہی اسے خاموش رہنے پر مجبور کریں۔
اس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دے کر مقدمہ درج کرایا جائے۔ مقدمے کی پہلی اطلاع میں واقعے کی تاریخ، وقت، جگہ، متاثرہ بچے یا خاتون کی عمر، ملزم یا مشتبہ شخص کی شناخت اور واقعے سے متعلق دستیاب معلومات درست طور پر درج ہونا ضروری ہیں۔ متاثرہ خاندان کو مقدمے کی نقل حاصل کرنی چاہیے اور اس کے بعد تفتیشی افسر سے رابطہ برقرار رکھنا چاہیے تاکہ مقدمہ صرف درج ہو کر فائلوں میں بند نہ ہو بلکہ باقاعدہ تفتیش آگے بڑھے۔
اس مرحلے کے فوراً بعد طبی اور قانونی معائنہ نہایت اہم ہے۔ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164-A کے تحت زیادتی کے متاثرہ شخص کا فوری طبی معائنہ کیا جاتا ہے، جبکہ خاتون متاثرہ کا معائنہ، جہاں ممکن ہو، خاتون معالج کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ معائنے میں جسمانی چوٹوں، ذہنی کیفیت اور دیگر متعلقہ شواہد کو ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ طبی معائنہ جتنا بروقت ہوگا، اتنا ہی اہم ممکنہ ثبوت محفوظ رکھنے کا امکان ہوگا۔
طبی معائنے کے ساتھ ساتھ جسم، لباس، بستر، خون، بال، جسمانی مواد یا دیگر متعلقہ اشیا سے حاصل ہونے والے شواہد کو محفوظ کرنا ضروری ہے۔ جہاں قانون اور طبی حالات اجازت دیں، وہاں متاثرہ اور ملزم کے نمونے لے کر ڈی این اے یا دیگر فارنزک تجزیے کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ شواہد کو کس نے، کب، کہاں سے حاصل کیا، کس طرح پیک کیا اور کس کے حوالے کیا، اس کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے تاکہ عدالت میں شواہد کی زنجیر برقرار رہے۔
متاثرہ کے کپڑے یا دیگر ممکنہ شواہد کو ضائع، دھویا، پھینکا یا تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر واقعے سے متعلق موبائل فون، پیغامات، تصویریں، ویڈیوز، رابطوں کی تفصیل، سماجی رابطوں کے پیغامات یا دیگر برقی شواہد موجود ہوں تو انہیں حذف، ترمیم یا کسی دوسرے شخص کو غیر ضروری طور پر منتقل نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے شواہد تفتیش کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔
اس کے بعد متاثرہ کا بیان قانون کے مطابق مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اینٹی ریپ انویسٹیگیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021 کے تحت متاثرہ کا بیان جلد از جلد اور اصولاً ایک مرتبہ ریکارڈ کرنے، اسے محفوظ رکھنے اور عدالت میں اس کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کی گنجائش موجود ہے۔ بچے کو بیان یاد کرانے، الفاظ سکھانے یا اپنی مرضی کے مطابق جواب دینے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے؛ اسے اپنی زبان میں حقیقت بیان کرنے دی جائے۔
مقدمے کی تفتیش میں صرف متاثرہ بچے کا بیان ہی نہیں بلکہ واقعے کے بعد موجود گواہان، شکایت کنندہ، سرپرست، اساتذہ، طبی معالج، قانونی طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر، فارنزک ماہر، تفتیشی افسر اور ضرورت پڑنے پر برقی شواہد کے ماہر کی گواہی بھی اہم ہو سکتی ہے۔ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ شواہد جمع کرے، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرے، فارنزک رپورٹ حاصل کرے، ملزم کے خلاف دستیاب شواہد کو یکجا کرے اور مقدمے کا چالان مکمل قانونی تقاضوں کے مطابق عدالت میں پیش کرے۔
یہاں استغاثہ کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ صرف مقدمہ درج کرنا انصاف نہیں؛ مضبوط تفتیش، مکمل شواہد، درست قانونی دفعات، بروقت چالان، گواہوں کی پیشی اور عدالت کے سامنے شواہد کی مؤثر پیش کش ہی مقدمے کو انجام تک پہنچاتی ہے۔ والدین اور سرپرستوں کو بھی چاہیے کہ وہ خوف، سماجی دباؤ یا بدنامی کے خوف سے مقدمہ واپس لینے یا سمجھوتہ کرنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں، البتہ ہر قدم متاثرہ بچے کے بہترین مفاد اور اس کی حفاظت کو سامنے رکھ کر اٹھایا جائے۔
قانون متاثرہ بچوں اور خواتین کے وقار اور رازداری کے تحفظ کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ اینٹی ریپ انویسٹیگیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021 کے تحت ایسے مقدمات میں عدالت بند کمرے میں سماعت کر سکتی ہے اور متاثرہ یا گواہ کے تحفظ کے لیے پردے یا برقی رابطے کے ذریعے گواہی جیسے انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔ متاثرہ کی شناخت ظاہر کرنا بھی سنگین معاملہ ہے۔ اسی طرح نام نہاد دو انگلیوں کا معائنہ قانوناً ممنوع ہے اور اس کی کوئی قابلِ اعتنا قانونی حیثیت نہیں۔ یہ طریقہ فرسودہ ہے، جس میں متاثرہ کے پرائیویٹ پارٹ کا دو انگلیوں کی مدد سے روایتی طریقے سے معائنہ کیا جاتا تھا تاکہ اس کی جنسی ملاپ کی مدت معلوم کی جا سکے۔
لیکن انصاف صرف سزا دلوانے کا نام نہیں۔ جنسی زیادتی کا شکار بچہ یا خاتون مقدمے کے دوران اور اس کے بعد خوف، شرمندگی، اضطراب، ڈپریشن، سماجی تنہائی اور اعتماد کے بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے بچے کی نفسیاتی و سماجی بحالی کو بھی مقدمے کا لازمی حصہ سمجھنا چاہیے۔ متاثرہ بچے کو ماہرِ نفسیات، سماجی کارکن، تربیت یافتہ مشیر یا چائلڈ پروٹیکشن ماہر کی مدد فراہم کی جائے، اسے محفوظ ماحول دیا جائے، تعلیم جاری رکھنے میں مدد دی جائے اور خاندان کو بھی رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ بچے کو واقعے کے بعد معمول کی زندگی کی طرف واپس لایا جا سکے۔
اینٹی ریپ انویسٹیگیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021 میں بھی متاثرین کے لیے آزاد معاون مشیر کی گنجائش موجود ہے، جس میں ماہرِ نفسیات، ڈاکٹر، وکیل، سماجی کارکن یا متعلقہ غیر سرکاری ادارے کا نمائندہ شامل ہو سکتا ہے۔
نفسیاتی و سماجی بحالی کا مقصد بچے کو واقعے کی یاد بھلانے پر مجبور کرنا نہیں بلکہ اسے یہ احساس دلانا ہے کہ وہ قصوروار نہیں، وہ محفوظ ہے، اس کی بات سنی جا رہی ہے اور معاشرہ اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ ضرورت پڑنے پر طویل مدتی نفسیاتی مشاورت، خاندان کی رہنمائی، تعلیمی معاونت اور سماجی بحالی کا منصوبہ بنایا جانا چاہیے۔
آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی بچے یا خاتون کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ صرف پولیس یا عدالت کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ والدین، اساتذہ، پولیس، ہسپتال، قانونی طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر، فارنزک ماہرین، چائلڈ پروٹیکشن ادارے، استغاثہ، عدالتیں، وکلا اور سماجی تنظیمیں اگر اپنی اپنی ذمہ داری بروقت اور درست طریقے سے ادا کریں تو متاثرہ شخص کو انصاف ملنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی کے 1,914 رپورٹ شدہ واقعات سامنے آنا اس مسئلے کی سنگینی ظاہر کرتا ہے، اور ان اعداد میں گلگت بلتستان سے رپورٹ ہونے والے واقعات بھی شامل ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کو خاموش کرانا مسئلے کا حل نہیں، اسے محفوظ کرنا حل ہے؛ مقدمہ درج کرنا کافی نہیں، اسے منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے؛ ملزم کی گرفتاری کافی نہیں، شواہد کو محفوظ کرکے قانون کے مطابق سزا تک پہنچانا ضروری ہے؛ اور سزا ہی کافی نہیں، متاثرہ بچے کی نفسیاتی و سماجی بحالی بھی انصاف کا حصہ ہے۔ مجرم کو آئندہ ایسے گھناونے فعل سے اور خصوصاً بچوں کی قربت سے دور رکھنے اور بلیک لسٹ کرنا بھی ضروری ہے، معاشرے کی اصل طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ طاقتور کے بجائے کمزور کے ساتھ کھڑا ہو اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی بچے یا خاتون کے ساتھ ہونے والی زیادتی خاموشی، دباؤ یا سماجی بدنامی کے اندھیرے میں دفن نہ ہو۔





