اُستاد وزیر فدا علی ایثار، یادوں کے دریچوں سے!
تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر
ہاسس پونیال کے پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر ابھی سورج کی اوّلین سنہری کرنیں اُتر رہی تھیں۔ رات کی سیاہی آہستہ آہستہ سمٹ رہی تھی اور صبح کی روشنی وادی کے دامن میں اپنے قدم رکھ رہی تھی۔ میں نمازِ فجر سے فارغ ہوا، ابھی تسبیح کے دانے اُنگلیوں میں تھے کہ بے خیالی میں موبائل کھولا۔ اسکرین پر نظر پڑی تو جیسے ایک ہی لمحے میں صبح کی ساری روشنی ماند پڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر غم کا ایک طوفان برپا تھا۔ تعزیتی پیغامات، دُعائیں، آنسوؤں سے بھیگے الفاظ اور اُستادِ محترم کی تصاویر۔۔۔ شمالی پاکستان کا یہ پورا خطہ ایک عظیم عالم، دانشور، معلم اور صاحبِ فکر انسان کی رحلت پر انگشت بدنداں تھا۔ کچھ لمحوں کے لیے آنکھیں جیسے دیکھنے سے قاصر ہوگئیں، ذہن ماؤف ہوگیا اور دل پر ایک عجیب سی بے یقینی طاری رہی۔ میں بار بار وہی خبر پڑھتا اور خود کو سمجھاتا رہا کہ شاید یہ خبر درست نہ ہو، شاید یہ کوئی غلط اطلاع ہو۔۔۔ مگر حقیقت اپنی پوری سنگینی کے ساتھ سامنے کھڑی تھی۔
زندگی کبھی کبھی ایک خبر کے ذریعے انسان کے سامنے اپنی بے ثباتی کا پورا فلسفہ کھول دیتی ہے۔ ہم جن آوازوں کو ہمیشہ سننے کے عادی ہوجاتے ہیں، جن چہروں کو ہمیشہ اپنے درمیان دیکھنے کا گمان ہوتا ہے، ایک دن اچانک وہی آواز خاموش اور وہی چہرہ نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ بے شک، ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یہ قرآن کا اٹل اعلان ہے اور زندگی کی سب سے یقینی حقیقت بھی۔
آٹھ عشروں پر محیط بھرپور زندگی گزارنے کے بعد بالآخر اُستادِ محترم الواعظ وزیر فدا علی ایثار ہنزوی پردہ فرماگئے۔ اُن کی پُر رشک زندگی کے چھ عشرے اسماعیلی امامت کے در کی خاک چھانتے اور سرخرو ہوتے گزر گئے۔ بہت کم لوگ ایسے خوش بخت ہوتے ہیں جن کو امام کے در کی اتنی طویل عرصے تک خدمت کا موقع ملتا ہے۔
اُستاد سے منسوب بہت ساری یادیں ہیں۔ ۲۰۰۴ء کو اسماعیلی طریقہ بورڈ جائن کرتے وقت اُستادِ محترم رسمی طور پر منصبِ واعظی سے سبکدوش ہو رہے تھے۔ ہاں یہ رسمی سبکدوشی تھی۔ اُن کے رگ رگ میں درِ امامت کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ آخری سانسوں تک بطور سینئر اسکالر اطرب جیسے نوبل ادارے کے ساتھ وابستہ رہے۔ اُن سے یاداللہ کا سلسلہ میرے اطرب جائن کرنے سے پہلے بلکہ کافی پہلے کا ہے۔ سینئر واعظین کا ہمارے گھر آنا معمول کی بات تھی، تب واعظین کے لیے بیس کیمپ یا اسٹاف ہاؤس کی سہولت نہیں ہوتی تھی، فیلڈ پر جاتے ہوئے واعظین کو مُکھی کامڑیا صاحبان کے گھر میں ہی خیمہ زن ہونا پڑتا تھا۔ ہمارا گھر اس لیے خوش نصیب گھروں میں شمار ہوتا تھا کہ جہاں واعظین مہمان بنتے اور ہمارے والدین میزبان۔ عقیدت کا یہ عالم کہ کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ گھر میں ہم چھوٹے بچوں کو واعظین کا بچا ہوا کھانا بطور تبرک کھلایا جاتا۔ اس عقیدت کا ذاتی تجربہ بہت بعد مجھے اور الواعظ ڈاکٹر شرافت علی کو ہوا۔ ہوا یوں کہ چٹورکھنڈ میں عید نماز پڑھانے کے بعد سابق گورنر گلگت بلتستان مُکھی کرم علی شاہ مرحوم ہمیں زبردستی گھر لے گئے۔ شاجی کو میرا خطبہ پسند آیا تھا یا چہرہ۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔ اُن کے اسرار پر ہم اُن کے ساتھ اُن کے گھر گئے۔ عید تھی حلوہ کا ہونا یقینی تھا، مرحوم گورنر بہت مہمان نواز انسان تھے، انہوں نے بطور اشپیری حلوا پیش کیا۔ ہم نے ایک ایک لقمہ ابھی لیا تھا انہوں نے خادموں سے کہا کہ واعظین کا بچا ہوا حلوہ بطور تبرک تمام مہمانوں میں تقسیم کیا جائے۔ یہ اُن کا بڑاپن تھا اور امام کے در سے عقیدت مندی کا ثبوت بھی۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ بات ہو رہی تھی اُستادِ محترم کی۔ اپنی ہر علمی کامیابی پر یاد فرماتے، اپنی کتاب کا نسخہ دیتے اور فرماتے کہ اس پر اظہارِ نظر بھی لکھے۔ اُن کی مشہور تصانیف میں ’’ریاستِ ہنزہ: تاریخ و ثقافت کے آئینے میں‘‘، ’’تذکرہ فارسی گویانِ ہنزہ‘‘، ’’شمالی علاقہ جات میں اسماعیلی دعوت‘‘، لمحاتِ نور‘‘ (اونچاسویں اسماعیلی امام شاہ کریم الحسینیؑ کی سرزمینِ شمال کی پہلی آمد کی روداد) اور ’’یتیمی سے اعتمادی تک‘‘ (سرگزشت) شامل ہیں۔ اُن کا بڑاپن تھا کہ ایک دفعہ اُن کی ایک کتاب پر میں نے تنقیدی مضمون لکھا۔ میں اور استاد گلگت میں ایک ہی دفتر میں ہوتے، چوکیدار نے آکر کہا کہ اُستاد یاد فرما رہے ہیں۔ میں جب اُن کے پاس پہنچا تو چائے اور بسکٹ پہلے سے منگوا چکے تھے۔ گلے لگائے بہت پیار دیا اور شکریہ ادا کیا کہ آپ نے کتاب کو بہت باریک بینی سے پڑھا ہے۔
اُستادِ محترم کے ساتھ کئی اسفار کرنے کی خوش نصیبی حاصل ہوئی۔ وہ خوش خیال، خوش پوشاک اور خوش گفتار تو تھے ہی، خوش خوراک بھی کمال کے تھے۔ کھانے پینے کے معاملے میں اُن کی اپنی ایک فلسفیانہ دُنیا تھی۔ اکثر فرمایا کرتے ’’جس دن گھر میں گوشت نہیں پکتا، کھانا کھانے کو دل ہی نہیں کرتا۔‘‘
اس جملے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اُن کے نزدیک کھانا محض جسمانی ضرورت نہیں بلکہ زندگی کے حُسن کا ایک اہم باب تھا۔
ایک مرتبہ کسی پروگرام میں شرکت کے لیے اسکردو کا سفر درپیش تھا۔ ہم سب مختلف گاڑیوں میں روانہ ہوئے۔ اتفاق سے اُستادِ محترم کی گاڑی آگے نکل گئی اور ہماری گاڑی پیچھے رہ گئی۔ راستے میں رابطہ بھی نہ ہوسکا۔ استک نالے کا مٹن سوپ مشہور ہے۔ ہماری گاڑی وہاں پہنچی تو سوپ کی خوشبو نے جیسے گاڑی کو بریک لگانے پر مجبور کردیا۔ ہم رُک گئے، خوب مزے سے سوپ پیا اور پھر اطمینان سے اسکردو کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس دوران ایک خیال بار بار آتا رہا کہ کاش اُستادِ محترم بھی ساتھ ہوتے!
اسکردو پہنچ کر ملاقات ہوئی تو میں نے موقع غنیمت جانا اور اُستادِ محترم کے سامنے استک نالے کے سوپ کی ایسی تعریف شروع کردی جیسے ہم نے سوپ نہیں بلکہ کوئی تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہو۔ میں نے کہا ’’اُستادِ محترم! آج آپ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ استک نالے کا سوپ ایسا تھا کہ آپ ہوتے تو مزہ دوبالا ہوجاتا۔‘‘ یہ سنتے ہی اُستادِ محترم نے پیشانی پر ہاتھ رکھا، ایک لمبی آہ بھری اور کچھ اس انداز سے فرمایا جیسے کسی بڑے قومی نقصان کی خبر سن رہے ہوں ’’کریمی! بس کیا کریں۔۔۔ قسمت کی بات ہے۔ میرا ڈرائیور نیا تھا، بے خیالی میں استک نالہ کراس ہوگیا۔ مجھے سوپ نہ پینے کا بہت افسوس ہے۔‘‘
ان کے لہجے میں سوپ سے محرومی کا جو درد تھا، اُسے دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ اس سفر میں اصل مسئلہ اسکردو پہنچنا نہیں تھا؛ اصل المیہ یہ تھا کہ استک نالے کا سوپ پیچھے رہ گیا تھا! میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ اُستادِ محترم کی گاڑی اگر ذرا سی دیر سے پہنچتی تو شاید ہم سب کو سوپ کے ساتھ اُن کی ایک ایسی تاریخی واہ بھی سننے کو ملتی جو اس سفر کی سب سے یادگار چیز ہوتی۔ آج سوچتا ہوں تو اس واقعے پر ہنسی بھی آتی ہے اور دل بھی بھر آتا ہے۔ زندگی کے بڑے بڑے واقعات اپنی جگہ، مگر بعض اوقات کسی شخصیت کی اصل شگفتگی انہی چھوٹے چھوٹے واقعات میں محفوظ رہ جاتی ہے۔ اور اُستادِ محترم فدا علی ایثار کی یادوں میں اگر علم و فضل کے کئی روشن ابواب ہیں تو استک نالے کا وہ سوپ بھی اپنی جگہ ایک نہایت مزیدار باب ہے!

ایک دفعہ چٹورکھنڈ سے گلگت جاتے ہوئے گوہر آباد چائے کے لیے رُکے، مئی کا مہینہ تھا بہار اپنی جوبن پر تھا، ہوٹل کے سبزہ زار میں بچھی کرسیوں پر بیٹھے نہ جانے کیوں چائے کا ہر گھونٹ ایسا لطف دینے لگا تھا کہ اللہ اللہ۔ گوہر آباد گاؤں سے آتی گھنیر کی خوشبو میں رچی بسی ہوائیں اور نیچے دریائے غذر کی طوفافی لہروں کی آوازیں ایک عجیب سرشاری طاری کر رہی تھیں۔ اور ہماری حالت ایسی تھی کہ بقول اقبال ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو۔ اتنے میں اُستادِ محترم کی بھاری بھر کم آواز گونجی۔ ’’کریمی! چائے تو آپ جیسے نوجوانوں کے ہاتھ میں اچھی لگتی ہے ہم بوڑھے لوگ تو بس شوق پورا کر لیتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا ’’اُستادِ محترم ! چائے تو چائے ہوتی ہے بوڑھے پئے یا جوان۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ اُستادِ محترم چونکہ اُردو ادب کے ساتھ ساتھ فارسی و عربی ادب میں بھی اپنا ایک مقام رکھتے تھے۔ کہنے لگے کہ چائے کیسی ہونی چاہئے اور کن لوگوں کو پینا چاہئے۔ فارسی ادب کے ایک دل جلے شاعر نے بڑے خوبصورت اشعار کہے ہیں۔ آپ بھی سنئے اور لطف اُٹھائے۔ وہ کہتے ہیں؎
سیر کر دم از بخارا تا سمرقندِ شریف
ہر کُجا کر دم نظر در بزم خوبان است چائے
چائے و چینی درکفِ ہر ناسزا حیف است حیف
مثل گُل خنداں بدستِ نوجوانان است چائے
ترجمہ: ’’میں نے سمرقند سے لے کر بخارا تک کا سفر کیا جہاں جہاں میری نظر گئی میں نے حسینوں کی محفل میں چائے ہی چائے کا دَور چلتے دیکھا۔
چائے اور چائے کا چینی پیالہ ایرے غیرے کے ہاتھ نظر آنا افسوس کی بات ہے چائے تو نوجوانوں کے ہاتھ میں پھول کی طرح ہنستی ہے۔‘‘
ایک دفعہ اطرب کینٹین گلگت میں چائے پیتے ہوئے میں نے اُن سے پوچھا ’’اُستادِ محترم جوانی یاد آتی ہے، بڑھاپے کا لطف لیتے ہیں، کیا محسوس ہوتا ہے؟‘‘ اُستاد نے ٹوپی سامنے میز پر رکھی، دائیں ہاتھ سے پیشانی کا پسینہ صاف کیا اور کچھ توقف کے بعد فارسی ادب کا گویا دفتر کھول دیا۔ کہنے لگے، ’’کریمی! فارسی شعراء نے اس کی زبردست منظرکشی کی ہے۔ آپ بھی سنیے اور غور کیجیے۔ حکیم نظامی گنجوی نے کیا خوب کہا ہے؎
نشاطِ عمر باشد تا چهل سال
چهل ساله فرو ریزد پر و بال
چالیس سال تک زندگی کی چہل پہل اور رونق رہتی ہے، لیکن چالیس سال کی عمر کو پہنچتے ہی انسان کے پر و بال (طاقت) گرنے لگتے ہیں۔
پس از پنجه نباشد تندرستی
بصر کندی پذیرد، پای سستی
پچاس (پنجه) کے بعد وہ پہلی جیسی تندرستی نہیں رہتی، نظر کمزور ہونے لگتی ہے اور پیروں میں سستی آ جاتی ہے۔
چو شصت آمد نشست آمد پدیدار
چو هفتاد آمد افتاد آلت از کار
جب ساٹھ (شصت) سال کی عمر آتی ہے تو انسان زیادہ تر بیٹھنے (نشست) کو ترجیح دیتا ہے (گوشہ نشین ہو جاتا ہے)، اور جب ستر (ہفتاد) سال کی عمر آتی ہے تو جسم کے اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
به هشتاد و نود چون در رسیدی
بسا سختی که از گیتی کشیدی
جب تو اسی (ہشتاد) اور نوے (نود) سال کو پہنچ جاتا ہے، تو تو نے دُنیا کے بہت سے مصائب اور سختیاں جھیل لی ہوتی ہیں۔
وز آنجا گر به صد منزل رسانی
بود مرگی به صورت زندگانی
اور وہاں سے اگر تو سو سال کی منزل تک بھی پہنچ جائے، تو وہ زندگی دراصل ظاہری شکل میں ایک موت ہی ہوتی ہے۔
فارسی ادب کی یہ شہرہ آفاق تمثیل انسانی زندگی کے عروج و زوال کی ایک ایسی سحر انگیز داستان ہے، جو بحرِ متقارب کے آہنگ میں ڈھل کر بظاہر عمر کے ہندسوں مگر درحقیقت انسانی وجود کے پگھلنے کا مرثیہ سناتی ہے۔
نظامی کے "پای سستی‘‘ اور اعضاء کے کام چھوڑنے کے مضمون کو غالب نے اپنے منفرد انداز میں یوں بیان کیا ہے؎
مضمحل ہو گئے قویٰ، غالب
اب عناصر میں اعتدال کہاں؟
نظامی کے نوے اور سو سال کے اس مرحلے کو، جہاں زندگی صرف نام کی رہ جاتی ہے، بہادر شاہ ظفر نے اپنے آخری ایام میں یوں قلمبند کیا؎
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں
طویل عمر کی حقیقت صرف چند دن کی مہلت سے زیادہ نہیں، جو دیکھتے ہی دیکھتے حسرتوں کے ہجوم میں ختم ہو جاتی ہے۔ کہتے ہیں وقت نہیں رُکتا، کہیں نہ کہیں ہم رُک جاتے ہیں۔ اپنی لائبریری میں یا اپنے دفتر میں سامنے ٹیبل پر دھری کتابیں اور کاغذات میں کھو کر یا کسی چھت پر لیٹے تارے گنتے ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب لمحے ہمیں قید کر لیتے ہیں۔ اس لیے غالباً مستنصر حسین تارڑ نے کہا تھا ’’وقت نہیں گزرتا وہ وہی رہ جاتا ہے شاید ہم گزر جاتے ہیں۔‘‘ یہ اشعار یہی کہانی بیان کرتی ہیں۔
میں نے اُستادِ محترم کی کتاب ’’یتمی سے اعتمادی تک‘‘ کو شروع سے آخر تک لفظ بہ لفظ پڑھا ہے۔ اس پر ایک طویل تبصرہ بھی لکھا ہے۔ اس کے مطالعے اور اُستاد محترم کی صحبت سے زندگی گزارنے کا سلیقہ مل گیا۔ اُستاد نے زندگی اور زندگی کی تلخیوں کو نہ صرف قریب سے دیکھا ہے بلکہ محسوس بھی کیا ہے۔ کس کو معلوم تھا کہ کریم آباد ہنزہ میں پیدا ہونے والا بچہ، چھ سال کی عمر میں باپ کے سائے سے محروم ہونے والا بچہ علم و ادب کی دُنیا میں اتنا بڑا نام کمائے گا۔
آپ اپنی کتاب میں ایک جگہ اپنی طبیعت کی ناسازی کے باوجود امام اور امام کی جماعت کی خدمت کے لیے کابل سے بدخشان کے لیے زمینی سفر اختیار کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سامنے صحت کی ناسازی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ دورِ حاضر میں کسی فرد کا اپنے پیشے سے اتنی مخلصانہ محبت ہمیں خال خال ہی نظر آتی ہے۔ ایسی ہی بے لوث محبت کا اشارہ ہمیں ساغر صدیقی کے اس شعر میں ملتا ہے؎
ہائے آدابِ محبت کے تقاضے ساغر
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑ دیا
یہ آدابِ محبت درِ امام اور جماعتِ امام کے لیے آپ کو تا دمِ مرگ بے چین کیے رکھا۔ میں جب گلگت ریجن میں ہوتا تھا میرے پاس وعظ تھیم کی ذمہ داری تھی، جمعہ سے ایک دن پہلے اُستادِ محترم خود فون کرکے پوچھتے کہ کریمی اس دفعہ وعظ ڈیوٹی کہاں دی گئی ہے۔
میں جب کراچی ہیڈ آفس میں ہوتا تھا اور ’’قندیل‘‘ کی ادارت میرے پاس تھی۔ اُستاد روز میرے پاس آفس آتے اور گھنٹوں میرے پاس بیٹھتے۔ میں نے اُن کا ایک طویل انٹرویو بھی لیا ہے، اِن شاء اللہ کبھی آپ کی بینائیوں کی نذر کروں گا۔
جب میں ہنزہ میں اکیڈمک لیڈ تھا، وہاں جب جب ضرورت پڑتی میں اُستادِ محترم کو زحمت دیتا اور وہ سینکڑوں میل طے کرکے ہنزہ پہنچتے اور محفل پر چھا جاتے۔ ہنزہ سے جب میں اشکومن پونیال ریجن آیا، یہاں بھی اُستادِ محترم کو ایک آدھ بار زحمت دی، حالانکہ اس وقت غذر ایکسپریس روڈ پر کام جاری تھا، اُستاد کی طبیعت بھی ناساز رہتی تھی، سفر تھکا دینے والا ہوتا۔ لیکن جب اُستاد سے جماعت کی خواہش کا ذکر کرتا کہ آپ کو جماعت سننا چاہتی ہے، تو وہ صحت کی ناسازی، پای سستی اور بزرگی کے باوجود تشریف لاتے، اور ہماری مذہبی محافل کو اپنی موجودگی سے وقار بخشتے۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کا جماعت کے اندر بے پناہ قدر تھی۔ ایک دفعہ گلگت مرکزی جماعت خانے میں ایک بڑا پروگرام تھا۔ میں اور اُستادِ محترم جوتے اُتار کر جماعت خانے کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک نوجوان آگے آیا۔ اس نے اُستادِ محترم کا ہاتھ تھاما، عقیدت سے چوما اور آنکھوں سے لگا لیا۔ شاید اُس کی تشنگی ابھی باقی تھی؛ وہ بے اختیار جُھکنے لگا، گویا قدموں کی خاک کو بھی اپنی قسمت کا سرمایہ بنانا چاہتا ہو۔ اُستادِ محترم نے فوراً اسے اُٹھایا، سینے سے لگایا اور بے پناہ محبت دی۔ نوجوان کی آنکھوں میں عقیدت کے آنسو تھے۔ کہنے لگا ’’میری خوش قسمتی ہے کہ آج آپ سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اپنے گھر میں قدر و احترام سے آپ کا ذکر سنتے سنتے جوانی پائی ہے۔‘‘ اُستادِ محترم خاموشی سے اسے دیکھتے رہے، جیسے اس ایک جملے میں اپنی پوری زندگی کی محنت کا صلہ پا لیا ہو۔
بے شک، ’’این سعادت بزورِ بازو نیست۔۔۔ ‘‘ ایسی سعادت محض کوشش سے نہیں ملتی، یہ نصیب والوں کے حصے میں آتی ہے۔
میری ہر علمی کامیابی پر اُستاد شاد رہتے۔ میری پہلی کتاب ’’شاید پھر نہ ملیں ہم‘‘ پر شاندار تقریظ بعنوان ’’کہنے کی بات‘‘ لکھی۔ میری ادارت میں شائع ہونے والا سہ ماہی رسالہ ’’فکرونظر‘‘ کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی پر تحقیقی مضامین لکھے جن کو علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی ملی۔ خطے میں منعقدہ ہر چھوٹی بڑی تقریب میں استاد کے ساتھ جانے کا موقع ملا۔ وہ ایسی محافل پر چھا جاتے۔ کبھی اُستاد مجھے سنتے اور خوب داد دیتے اور کبھی میں ان کو سننے کا شرف حاصل کرتا۔ وہ واقعی ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے۔
میرے لیے اُستادِ محترم کی محبت اور شفقت کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ جب میں نے اپنی شادی کا دعوت نامہ اُن کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے نہ صرف گلے لگا کر دل کھول کر مبارک باد دی بلکہ فرمایا ’’کریمی! آپ کا نکاح میں پڑھاؤں گا۔‘‘ یہ محض ایک جملہ نہیں تھا؛ میرے لیے محبت، شفقت اور ایک دیرینہ تعلق کی سند تھا۔ پھر جو فرمایا، وہی کر دکھایا۔ وہ ساعت بھی کیا خوب ساعت تھی! عیدِ غدیر کا مبارک دن، ۲۲ اکتوبر ۲۰۱۳ء، گلگت مرکزی جماعت خانہ۔۔۔ اُستادِ محترم الواعظ وزیر فدا علی ایثار ہنزوی نے میرا نکاح پڑھایا۔ یوں میری ازدواجی زندگی کا آغاز بھی اُن کی دُعاؤں کے سائے میں ہوا۔ شادی بھی، بقول بعض احباب، خطے کی بڑی شادیوں میں شمار ہوگئی۔ لیکن شادی جتنی بڑی تھی، اس پر تبصرے اس سے بھی بڑے نکلے۔ میڈیا کو بھی جیسے ایک موضوع ہاتھ آگیا۔ بات نکاح سے نکلی اور اخراجات، اصراف اور واعظ کی سادگی تک جا پہنچی۔ کچھ دوست تو ایسے تھے جنہیں اس موضوع میں خاص روحانی سکون مل رہا تھا؛ مہینوں تک اس چرچے کو تازہ رکھتے رہے۔ ادارہ جاتی سطح پر بھی اس معاملے پر چند نشستیں ہوئیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میں نے شادی نہیں کی، کوئی قومی بجٹ پیش کردیا ہو جس پر باقاعدہ جائزہ اجلاس ضروری ہے! آخرکار مجھے بھی وضاحت پیش کرنا پڑی۔ میں نے عرض کیا ’’دوستو! شادی ایک ذاتی معاملہ ہے۔ ویسے بھی میں نے کسی کی بہن یا بیٹی اغوا نہیں کی، باقاعدہ اسلامی شریعت کے مطابق نکاح کیا ہے۔ اور اس نکاح کی ایک اضافی خوبی یہ بھی ہے کہ اسے اسماعیلی دُنیا کے فخر، الواعظ وزیر فدا علی ایثار ہنزوی نے پڑھایا ہے!‘‘

شاید آخری جملے میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ شکایتوں کا درجہ حرارت اچانک نیچے آگیا۔ جو حضرات کافی عرصے سے اس شادی پر فکری تشویش میں مبتلا تھے، اُن کی تشویش بھی کچھ دیر کے لیے دم توڑ گئی۔
بعد میں جب میں نے یہ سارا واقعہ اُستادِ محترم سے بیان کیا تو وہ خوب ہنسے۔ پھر اپنی مخصوص شگفتگی کے ساتھ فرمایا ’’کریمی! معاشرے میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں، سب کو جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔‘‘ یہ مختصر سا جملہ دراصل اُن کی شخصیت کا ایک بڑا سبق تھا۔ وہ جانتے تھے کہ معاشرے میں ہر شخص کو مطمئن کرنا ممکن نہیں، اور ہر بات کا جواب دینا بھی دانش مندی نہیں۔ بعض اوقات خاموشی، طویل ترین وضاحت سے زیادہ بامعنی ہوتی ہے۔ آج جب اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو شادی کی رونقوں سے زیادہ اُستادِ محترم کی وہ شفقت یاد آتی ہے، وہ گلے لگانا، وہ بے ساختہ مبارک باد اور پھر محبت سے کہنا ’’کریمی! آپ کا نکاح میں پڑھاؤں گا۔‘‘ زندگی کے بعض لمحات وقت کے ساتھ پُرانے نہیں ہوتے؛ وہ یادوں میں اور زیادہ روشن ہوجاتے ہیں۔ میرے لیے یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔۔۔ جس میں ایک طرف زندگی کا نیا سفر شروع ہوا اور دوسری طرف اُستادِ محترم کی محبت کا ایک ایسا باب رقم ہوا جسے وقت کی گرد کبھی دھندلا نہیں سکتی۔
واعظی کو انہوں نے ہمیشہ فخر سمجھا۔ شاید اس کی ایک وجہ بھی تھی کہ آپ کے شاگرد واعظین کا پہلا بیچ شاہ کریم ہاسٹل سے فارغ ہو رہا تھا۔ ان فارغ التحصیل واعظین کے نام بدست وزیر جعفر اُس وقت کے امام شاہ کریم الحسینیؑ نے ایک پیغام بھیجا جو ان فارغ التحصیل واعظین کے اسناد کے ساتھ ان کو دیا گیا۔ جس کو استاد محترم نے اپنی کتاب ’’یتیمی سے اعتمادی تک‘‘ کے صفحہ ۱۲۱؍ میں بطورِ حوالہ قلم بند کیا ہے۔ جس میں امامؑ نے ۱۹۸۳ء کو واعظین ٹریننگ سے فارغ التحصیل واعظین کے نام فرمایا تھا:
"I hope the graduating Wa’ezeen will do honour to the association and the Jamat as a whole and substantially the numerous and complex problems of Northern Areas and be pillars of faith.”
یہی وجہ ہے کہ اس مقدس پیشے سے وابستہ رہ کر، بلکہ اس سے مخلص رہ کر، اُستاد فدا علی ایثار اور ان کے شاگردوں نے شمال کی ان دور افتادہ وادیوں میں محض وعظ نہیں کیا، بلکہ شعور بانٹا، فکر جگائی اور انسان کے اندر ایک نئی دُنیا آباد کی۔ جماعت کی فکری، اخلاقی اور روحانی ترقی کے سفر میں ان کا کردار شاید ان عمارتوں کی طرح نمایاں نہ ہو جو آنکھوں کو دکھائی دیتی ہیں، مگر اس کے اثرات نسلوں کے رویّوں، سوچ اور کردار میں آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ہاں، انہوں نے شاید کوئی ایسی بڑی عمارت نہیں بنائی جو دور سے نظر آئے، جس کی تختی پر ان کا نام لکھا ہو، یا جس کی تصویر لے کر دُنیا کو دکھایا جاسکے۔ لیکن انہوں نے عمارتوں سے کہیں زیادہ قیمتی چیز تعمیر کی۔۔۔ انسان۔
اے کے آر ایس پی نے ان پہاڑوں میں نہریں بنائیں، نرسریاں آباد کیں، بجلی کے منصوبے شروع کیے اور لوگوں کی زندگیوں میں معاشی سہولت کے دروازے کھولے۔ اے کے ای ایس نے اسکول، اکیڈمیز اور علمی ادارے قائم کیے۔ اے کے ایچ ایس نے ہسپتال بنائے اور صحت کی سہولیات پہنچائیں۔ یہ سب کام اپنی جگہ عظیم تر ہیں؛ ان کے ثمرات ہمیں اپنی آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر ان تمام اداروں کے پیچھے جس چیز نے انسان کو ان سے فائدہ اُٹھانے کے قابل بنایا، وہ شعور تھا۔ یہ شعور کسی اینٹ، پتھر، سیمنٹ یا لوہے سے تعمیر نہیں ہوتا۔ اس کی کوئی عمارت نہیں بنتی، کوئی افتتاحی تختی نہیں لگتی، کوئی فیتہ نہیں کٹتا اور نہ ہی اس کی تصویر اخبارات میں نمایاں ہوتی ہے۔ مگر یہی وہ شعور ہے جو انسان کو اسکول کی قدر سکھاتا ہے، ہسپتال سے استفادے کا احساس دیتا ہے، اجتماعی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کی ترغیب دیتا ہے اور اسے اپنے معاشرے کی تعمیر کا ذمہ دار بناتا ہے۔
واعظین نے شاید عمارتیں نہیں بنائیں، مگر انہوں نے ان عمارتوں کو بامعنی بنانے والے انسان تیار کیے۔ انہوں نے ان تنگ، دور افتادہ اور کبھی تاریک وادیوں میں علم و آگہی کی وہ شمعیں روشن کیں جن کی روشنی ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی۔ ان کی محنت کا کمال یہ تھا کہ وہ کسی ایک فرد کو نہیں، نسلوں کو مخاطب کرتے تھے۔ ایک واعظ جب کسی چھوٹے سے جماعت خانہ میں بیٹھ کر تعلیم، علم، کردار، خدمت، اتحاد اور ترقی کی بات کرتا ہے تو بظاہر شاید چند درجن لوگ اس کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں، مگر اس کے الفاظ کا سفر بہت طویل ہوتا ہے۔ وہ الفاظ گھروں میں جاتے ہیں، بچوں تک پہنچتے ہیں، والدین کے رویوں کو بدلتے ہیں، نوجوانوں کے خوابوں کو وسعت دیتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ پورے معاشرے کی سمت بدلنے لگتے ہیں۔ شعور کی یہی خاصیت ہے۔۔۔ یہ نظر نہیں آتا، مگر سب کچھ بدل دیتا ہے۔ ایک نہر کھیت کو سیراب کرتی ہے، ایک اسکول ذہن کو روشن کرتا ہے، ایک ہسپتال جسم کو شفا دیتا ہے؛ مگر شعور پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔ اور اس شعوری انقلاب کے خاموش معماروں میں اُستادِ محترم فدا علی ایثار کا نام یقیناً احترام سے لیا جائے گا۔
اُستادِ محترم اور اُن کے شاگردوں نے ہمیشہ امن کا درس دیا۔ بدلے میں محبت پائی۔ ۲۰۰۵ء میں گلگت کے حالات انتہائی مخدوش تھے، کرفیو اٹھانے کے بعد دفعہ ۱۴۴ نافذ تھا۔ میں نے جامع مسجد کے پاس سبزی منڈی میں اُستادِ محترم کو دیکھا، وہ اطمنان سے سبزی خرید رہے تھے، نہ کوئی پروٹوکول، نہ گارڈز نہ ہجوم۔ میں نے عرض کیا، اُستادِ محترم ان دنوں آپ کو ایسے بے احتیاطی نہیں کرنی چاہئے۔ آپ اکیلے ہیں، شہر کے حالات ٹھیک نہیں۔ انہوں نے محبت بھرے لہجے میں کہا، کریمی! ہم نے اس مٹی کو محبت دی ہے، بدلے محبت کی ہی توقع ہے، ہمیں ڈر کیوں لگنا چاہئے؟ میرے پاس خاموشی کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ شیخ سعدی بے اختیار یاد آئے؎
تو برائے وصل کردن آمدی
نہ برائے فصل کردن آمدی
اُستاد اکثر ایک واقعہ مجھ سے شئیر کیا کرتے تھے۔ ۱۹۸۷ء کو ہزہائی نس آغا خان (چہارم) گلگت کے دورے پر تھے۔ گلگت مرکزی جماعت خانہ کے باہر اسماعیلی والنٹئرز نے ایک بینر آویزان کیا تھا جس پر محمود الحسن کوکب پشاوری کا یہ قطعہ درج تھا؎
اے وارثِ امامتِ دوراں، خوش آمدی
اے رہنمائے جادۂ ایماں، خوش آمدی
کوکؔب بصد نیاز رسیدہ بخدمت
شہزادۂ کریم آغا خاں، خوش آمدی
جس پر محلے کے سسٹر کمیونٹی کے کچھ اوباش لڑکے سیخ پا ہوئے اور اسماعیلی کونسل گلگت کے اکابرین کو دھمکی دی کہ اس بینر کو ہٹایا جائے، یہ آپ کے لیے وارثِ امامت ہوسکتا ہے، ہم اسے انگریز سمجھتے ہیں۔ غیرت کا تقاضا تو یہ تھا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے لیکن سلام ہو اُس وقت کے اسماعیلی اکابرین کی دانشمندی پر۔ انہوں نے ان اوباش لڑکوں کو کونسل بلایا، طالب شاہ کیک کے ساتھ چائے پلائی اور معذرت کی کہ بینر سے اگر اُن کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ شرمندہ ہیں۔ اکابرین نے بینر ہٹایا۔ اب ذرا وقت کا امتحان دیکھیے، ٹھیک ۳۰ سال بعد جب ۲۰۱۷ء کو ہزہائی نس آغا خان غذر اور ہنزہ میں اپنی جماعت کو آخری دیدار سے نوازنے کے بعد سرکاری دورے پر گلگت آئے تو سسٹر کمیونٹی کے بھائیوں نے وہی بینر ’’اے وارثِ امامتِ دوراں، خوش آمدی‘‘ اپنے اپنے محلوں میں دس سے زیادہ جگہوں پر خود آویزان کیا تھا۔ یہ صبر کا پھل تھا اور صبر کرنے والے جانتے تھے کہ روشنی کو کفِ دست میں چُھپایا نہیں جاسکتا۔۔۔ اور صبر کا درس دینے والے واعظین میں وزیر فدا علی ایثار پیش پیش تھے۔
اُستادِ محترم نے یتیمی سے اعتمادی اور پھر وزیر تک کا سفر محض طے نہیں کیا، بلکہ اسے اپنی محنت، اخلاص اور درِ امام سے وفاداری کے چراغوں سے روشن کیا۔ اعتمادی محض کوئی نام یا تخلص نہیں، بلکہ امامِ زمانہؑ کی طرف سے عطا کردہ ایک باوقار ٹائٹل ہے، جو حضور مُکھی، عالیجاہ، رائے، اعتمادی، وزیر اور دیوان کی صورت میں اپنی ایک تاریخی روایت رکھتا ہے۔ جیسے گئے وقتوں میں اسماعیلی فاطمی خلافت و دعوت میں مازونِ اصغر سے لیکر حجتِ اعظم کے مناصب تھے یا دورِ الموت اور بعد دورِ الموت معلم، پیر اور پیرانِ پیر کے مناصب۔ اُستادِ محترم پہلے تمام ٹائٹلز سے نوازے جاچکے تھے اور ہزہائی نس آغا خان چہارم کی ڈائمنڈ جوبلی کے بعد انہیں وزیر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اگرچہ اس عنوان کی معنویت سے بہت سے لوگ ناواقف تھے، ایک محفل میں جب استادِ محترم کو ’’اعتمادی‘‘ کہہ کر پکارا گیا تو دوستِ محترم عبدالخالق تاج نے ازراہِ تفنن برجستہ کہا ’’ہمیں بھی اعتمادی کہہ کر پکارو بھائیو، ہم کون سے بے اعتماد لوگ ہیں!‘‘ بس پھر کیا تھا، محفل زعفران زار ہوگئی۔
وقت بھی عجیب مصنف ہے؛ وہ انسان کی زندگی کی داستان ایسے موڑوں سے لکھتا ہے جہاں کبھی ایک یتیم بچے کے قدموں تلے گرد ہوتی ہے اور کبھی وہی قدم عزت و توقیر کی بلند منزلوں تک جا پہنچتے ہیں۔ ان کی خودنوشت اس سفر کی گواہ ہے۔ کہاں وہ یتیم بچہ، جو ہنزہ سے گلگت اور گلگت سے واپسی کا سفر ٹریکٹر پر طے کرتا تھا؛ کہاں چلاس سے راولپنڈی تک ٹرک کی سواری؛ اور کہاں وزیر فدا علی ایثار، جو کبھی عالمی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے ایران و افغانستان میں ہوتے، کبھی انسٹی ٹیوٹ آف اسماعیلی اسٹڈیز، لندن کی دعوت پر دبئی اور کینیڈا کی علمی کانفرنسوں میں شریک ہوکر ان محافل کو وقار بخشتے۔۔۔ اور پھر وہ منظر بھی تو کتنا معنی خیز ہے جب امام شاہ کریم الحسینیؑ نے گلگت ایئرپورٹ پر انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا “My Excellent Mukhi!” ایک یتیم بچے سے امامِ زمانہؑ کے دربار کا محبوب خادم بننے تک کا یہ سفر محض عہدوں اور اعزازات کا سفر نہیں تھا؛ یہ محبت، وفا، خدمت اور مسلسل جدوجہد کی وہ داستان تھی جس کے ہر باب پر کامیابی کی مہر ثبت ہے۔
ہاسس پونیال کی بلند چوٹیوں پر اُس صبح سورج کی پہلی سنہری کرنیں اُتر رہی تھیں، مگر اُستادِ محترم کی رحلت کی خبر نے جیسے وادی کی روشنی چھین لی تھی۔ پہاڑ خاموش تھے، ہوائیں سوگوار اور صبح کی کرنیں بھی ماند پڑ گئی تھیں۔ مگر سورج کی روشنی عارضی طور پر چُھپ سکتی ہے، وہ چراغ نہیں بُجھتے جو کسی مردِ علم و عمل نے دلوں میں روشن کیے ہوں۔ وزیر فدا علی ایثار نے شمالی پاکستان کے ان دور افتادہ وادیوں میں علم و محبت اور شعور کے جو چراغ جلائے، اُن کی لو نسلوں تک سفر کرتی رہے گی؛ اُن کی آواز خاموش ہوگئی، مگر اُن کے وعظ و نصیحت کی خوشبو اب بھی انہی پہاڑوں کی ہواؤں میں رچی بسی ہے۔ وہ خود اُفق کے اُس پار چلے گئے، مگر اپنی روشنی اِس وادی کے سپرد کر گئے۔
میری دلی ہمدردیاں اُن کے صاحبزادے وجاہت بھائی اور اُن کے غمزدہ خاندان کے ساتھ ہیں۔ اللہ پاک الواعظ وزیر فدا علی ایثار ہنزوی کے سفرِ آخرت کو وسیلۂ ظفر بنائے، اُن کی پاکیزہ روح کو اپنی اصل میں واصل فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین!
’’این دُعا از من و از جملہ جہاں آمین باد!‘‘






