اپر چترال گرلز کالج: عوامی مفاد یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ؟
سید اولاد الدین شاہ
اپر چترال میں لڑکیوں کے لیے الگ کالج کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، لیکن طالبات سراپا احتجاج کیوں ہیں؟
ذرائع کے مطابق پہلے اس کالج کا کوئی واضح وجود نہیں تھا۔ اچانک ایک گھر کرائے پر لیا گیا اور وہاں کالج کی کلاسز شروع کر دی گئیں۔ دوسری جانب جو طالبات پہلے سے ایک قائم شدہ کالج میں زیرِ تعلیم ہیں، جہاں قابل اور تجربہ کار اساتذہ موجود ہیں اور پڑھائی کا ایک اچھا ماحول ہے، ان کے لیے اچانک اسی کالج میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔
اس سلسلے میں اوپر سے احکامات جاری کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک ڈی ای او (DEO) کا تبادلہ بھی کیا گیا کیونکہ وہ ایک اصول پسند انسان تھے، جس کے بعد ایک من پسند ڈی ای او تعینات کیا گیا اور ان کے ذریعے رات کے وقت ایک حکم نامہ جاری کروایا گیا۔
اس سلسلے میں میں نے کچھ گاؤں والوں سے بات کی جو اس معاملے سے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق ڈی ای او کے ذریعے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا، جو اس وقت سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہا ہے۔ اس میں محترمہ ڈپٹی اسپیکر کو بھی سی سی (CC) کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق:
"آئندہ کے لیے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول مستوج میں فرسٹ ایئر میں طالبات کے داخلے کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کو طالبات کی اعلیٰ ثانوی تعلیم کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔
اعلیٰ حکام کی زبانی ہدایات کے مطابق، آپ کو ان احکامات کی سختی سے تعمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔”
اس سلسلے میں اسکول کی ایک متاثرہ طالبہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا:
"ہم کالج میں ایک ماہ سے پڑھ رہے ہیں، پھر اچانک ہماری مرضی کے بغیر اپنی پسند ہم پر مسلط کی جا رہی ہے۔ ہم 28 طالبات کالج کے افتتاح میں بھی گئی تھیں۔ اس وقت ہم ڈپٹی اسپیکر سے ملے۔ پہلے انہوں نے کہا کہ مجھ سے فاصلہ رکھو، پھر جب ہم نے ٹرانسپورٹ کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہم ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری نہیں لے سکتے؛ ایک تو کالج آپ کے لیے بنایا اور اب ٹرانسپورٹ بھی ہم دیں۔”
طالبہ کا کہنا تھا:
"میرے گھر سے نئے کالج کا فاصلہ تین گھنٹے کا ہے۔ چھ گھنٹے تو سفر میں ہی گزر جائیں گے۔ پڑھیں گے اور آرام کب کریں گے؟ ٹرانسپورٹ بھی نہیں دے رہے ہیں۔”
پاکستان کے آئین اور انتظامی قوانین کے مطابق، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر یا کوئی بھی رکنِ اسمبلی، خواہ وہ ضلعی، صوبائی یا قومی سطح کا ہو، کسی انتظامی ادارے کے روزمرہ کے داخلی یا انتظامی امور میں براہِ راست مداخلت، احکامات جاری کرنے یا تبادلوں پر اثرانداز ہونے کا آئینی اختیار نہیں رکھتا۔
اس نوعیت کا ایک اور معاملہ ڈگری کالج اپر چترال میں بھی سامنے آیا تھا، جس میں پی ٹی آئی اپر چترال کے نمائندوں کے نام سامنے آئے تھے۔ اس کیس میں ایک پرنسپل اور ایک پروفیسر کا مبینہ طور پر سیاسی بنیادوں پر تبادلہ کیا گیا تھا اور کالج کئی ماہ تک فزکس کے استاد کے بغیر چلتا رہا۔
پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل کے مطابق، اس معاملے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سامنے والے طاقتور ہیں، جبکہ طالبات کے پاس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے اور امتناعی حکم (اسٹے آرڈر) حاصل کرکے اپنا تعلیمی عمل جاری رکھنے کا راستہ موجود ہے۔
چترال سے تعلق رکھنے والے اسکالر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کے مطابق، یہ کالج "فراڈ” اور "پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ” کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی کالج کی فیزیبلٹی تیار کی جاتی ہے، زمین خریدی جاتی ہے، ٹینڈر جاری کیا جاتا ہے اور آخر میں اسٹاف بھرتی کیا جاتا ہے، جس میں 45 تدریسی ملازمین سمیت مجموعی طور پر تقریباً 110 افراد کا اسٹاف شامل ہوتا ہے۔
ان کے مطابق اس کے علاوہ متعلقہ بورڈ سے الحاق (Affiliation) بھی کیا جاتا ہے کہ کالج کس بورڈ کے ساتھ منسلک ہوگا۔ یہاں ایسا کچھ نہیں کیا گیا، بلکہ صرف ایک گھر کرائے پر لے کر کلاسز شروع کر دی گئی ہیں۔
اب ان طالبات کو امتحانات بھی دینا ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کا امتحانی اور انتظامی الحاق کس ادارے کے ساتھ ہوگا؟ کیا انہیں بوائز ڈگری کالج مستوج یا بونی کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، یا اس کے لیے کوئی باقاعدہ طریقہ کار طے کیا گیا ہے؟





