مینیجنگ ڈائریکٹر نیٹکو کے نام کھلا خط

مینیجنگ ڈائریکٹر نیٹکو کے نام کھلا خط

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کھلا خط بنام مینیجنگ ڈائریکٹر نیٹکو

مکرمی!

میں آپ کے مؤقر جریدے کی وساطت سے MD نیٹکو کی توجہ بذریعہ نیٹکو چترال جانے والے مسافروں کے ساتھ پیش آنے والے سنجیدہ مسائل کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ نیٹکو سروس پورے پاکستان میں مسافروں کی سہولت کو اولین فوقیت دیتے ہوئے رو بہ سفر ہے ۔پاکستان کے تمام شہروں میں نیٹکو کی مضبوط گاڑیاں اور عملہ قابل صد آفرین ہے یہی وجہ ہے کہ مسافر ہمیشہ نیٹکو سروس کو اپنے سفر کے لئے ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے چترال کے لئے جو بسیں مختص ہوئی ہیں اُن کے ساتھ ہزاروں مسائل ہیں جوکہ گزشتہ چھے سالوں سے مسافروں کو پریشان و ہراسان کر رکھے ہیں
*:۔ چترال کے لئے مختص شدہ بسیں قابل استعمال حالت میں نہیں ہیں۔کسی بھی وقت کسی بہت بڑے نا خوشگوار واقعے کا پیش آنا بعید از قیا س نہیں۔
*:۔ پچیس سے تیس نشستوں پر مشتمل ان بسوں میں ساٹھ، ستر سے زیادہ مسافر بٹھائے جاتے ہیں۔جب عملے سے پوچھنے پر وہ کہتے ہیں کہ ’’ ہم کیا کریں ہمارے پٹرول کا خرچہ ہی نہیں نکلتا ‘‘ اللہ جانے یہ لوگ ایک سو سے زیادہ مسافروں کے کرائے سے پٹرول خرید کر پیتے بھی ہیں تو کیا پتا ۔
*:۔ مقا می سواری جن کو بیچ راستے میں بیٹھایا جاتا ہے جو چترال جانے والے سواریوں کے لیے نشست کے مسائل کے ساتھ ساتھ وقت کے ضیاع کا بھی بہت بڑا مسلہ بن گیا ہے جو ہمیشہ بس کے اندر
سواریوں میں جھگڑے کا سبب بنتا ہے۔
*:۔ بس کا چھت جو سواریوں کے سامان کے لیے ہے اندر سے کہیں زیادہ سواری چھت پہ سامان کے اوپربٹھایا جاتا ہے جو سواریوں کے سامان کو نقصان کے علاوہ کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب
بن سکتا ہے۔
*:۔ بس کی روانگی کے اوقات نامناسب ہونے کی وجہ سے بھی سواری مسائل کا شکار ہیں۔گلگت جو ایک بڑا شہر اور جہاں پر ہوٹل، ٹرانسپورٹ(ٹیکسی وغیرہ) کی سہولت ہونے کے باوجود بس روانگی کا
وقت سات یا ساڑھے سات بجے مقرر ہے۔جو کہ مسافروں کو مستوج میں رات گزارنے پر مجبور کرتی ہے۔جبکہ مستوج ایک پسماندہ اور ان تمام سہولیات سے محروم ہونے کے باوجود بس روانگی کا
وقت ساڑھے پانچ بجے ہے جو کہ ایک بار پھر گردو نواح کے مسافروں کو مستوج میں رات بسر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ (بس روانگی کے اوقات میں تبدیلی ایک غور طلب امر ہے)
یہ تمام مسائل اپنی جگہ لیکن بس کو چترا ل جانے والی جیسی خطرناک سڑک پر محض ادارے کے پٹرول کی خاطراوور لوڈ کرکے چلانا کہاں تک محفوظ ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔چترال جانے والی بس اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے کئی دفعہ ہولنا حادثات سے معجزاتی طور پر بال بال بچی ہے ۔راستوں میں گاڑی کا خراب ہونا تو گویا ایک دستور ہی بنا ہے۔ لہذا MD صاحب سے گزارش ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعے کے پیش آنے سے پہلے اس مسلے کے حل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
دوسرا اہم مسلہ مسافروں کے لنچ کا ہے ۔اگرچہ ہوٹل پہلے کی نسبت اچھا ہے تاہم صفائی کا خطرناک حد تک فقدان ہے ۔گوپس میں ایک ہوٹل میں گاڑی لنچ کے لئے پڑاؤ ڈالتی ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں صفا ئی کے علاوہ بیٹھ کے آرام سے کھانہ کھانے کے لئے بھی مناسب جگہ نہیں۔یہاں تک کہ ہاتھ دھونے کے لئے صابن اور تولیہ بھی نہیں۔زنانہ مسافروں کے لئے لیٹرین اور بیٹھنے کی موزوں جگہ ایک اہم مسلہ ہے ۔ مجھے امید ہے کہ MD صاحب اپنے ادارے کی شان وشوکت اور مسافروں کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری درخواست پر جلد از جلد غور فرمائیں گے۔

شکریہ

عنایت اللہ خان پریزیڈنٹ چترال اسٹوڈنٹس ارگنائزیشن
قراقرم یونیورسٹی، گلگت

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔