فرنچ سکالر ڈاکٹر ٹیفو کی بروشاسکی زبان میں لغت فرنچ ترجمے کے ساتھ منظر عام پر آگئی

فرنچ سکالر ڈاکٹر ٹیفو کی بروشاسکی زبان میں لغت فرنچ ترجمے کے ساتھ منظر عام پر آگئی

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(نامہ نگار) جرمن نژاد فرانسسی سکالرومعروف ریسرچر ڈاکٹر یٹیننے ٹیفو(Etienne Tiffou)کی یاسین میں کثرت سے بولی جانے والی زبان بروشاسکی کی فرانسسی زبان میں ترجمے پر مشتمل لغت منظر عام پر آگئی۔ ساڈھے تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل کتاب میں انہوں نے بروشاسکی زبان کے ہزاروں الفاظ کا فرنچ میں ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان الفاظ کے استعمال کے طریقہ کار کو بھی واضح کردیا ہے ۔ کتاب میں ڈاکٹر ٹیفو نے یاسین کی بروشاسکی زبان کے ماہر ونوجوان مصنف ایڈووکیٹ محمد وزیر شفیع کی بروشاسکی زبان میں شائع ہونے والی کتاب ’’ بروشاسکی راژن‘‘ کا خصوصی حوالہ دیا ہے جبکہ اس لغت کے بروشاسکی سے اردو اور انگریزی ترجمے کے لئے بھی انہوں نے وزیر شفیع کی خدمات حاصل کرنے کے لئے باضابطہ طور پر رابطہ کیا ہے۔

اس بارے میں ایڈووکیٹ محمد وزیر شفیع کا کہنا ہے کہ بروشاسکی ایک الگ تھلگ زبان ہونے اور اس زبان سے متعلق مناسب مواد کی عدم دستیابی کے سبب بروشاسکی پر کام کرنا انتہائی مشکل ٹاسک ہے تاہم ڈاکٹر ٹیفو نے جس قدر محنت اور لگن کے ساتھ بروشاسکی کے الفاظ کو اکھٹا کرکے ایک لغت کی شکل میں شائع کیا ہے وہ یقیناً قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ٹیفو نے اس کتاب میں بعض ایسے الفاظ شامل کئے ہیں جنہیں دیکھ کر انہیں حیرت بھی ہوئی کیونکہ انہیں خود یاسین کی بروشاسکی کے حقیقی وارث اور اصل بروشو ہونے کے باوجود اس طرح کے قدیم الفاظ زہن نشین نہیں تھے۔ ایڈووکیٹ محمد وزیر شفیع کا مزید کہنا ہے کہ بروشاسکی زبان کے حقیقی وارث ہونے کے ناطے وہ ڈاکٹر ٹیفو کی کتاب کا بروشاسکی سے اردو اور انگریزی ترجمہ کرنے میں فخر محسوس کرینگے اور اس مشکل ٹاسک کو خوش اسلوبی سے سرانجام دینگے۔

ڈاکٹر ٹیفو کی اس سے قبل بروشاسکی میں متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور بروشاسکی زبان سیکھنے کی غرض سے انہوں نے کم و بیش دس سال کا عرصہ یاسین، نگر اور ہنزہ کے لوگوں کے ساتھ گزارے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔