سکردوآل پارٹیز کانفرنس: ٹیکس کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو 13نومبر سے شٹرڈوان ہرتال کی کال دی جائے گی

سکردوآل پارٹیز کانفرنس: ٹیکس کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو 13نومبر سے شٹرڈوان ہرتال کی کال دی جائے گی

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو(رجب علی قمر) گلگت بلتستان کے عوام ظالمانہ ٹیکس کے خلاف مورچہ زن ہو گئے ، 13نومبر کو دما دم مست قلند ر کرنے کا حتمی فیصلہ ، یہ فیصلہ ٹیکس کے ایشو پر بلائی گئی انجمن تاجران سکردو کی آل پارٹیز کانفرنس میں کیا گیا ، سکردو میں مرکزی انجمن تاجران سکردو کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس ، تمام سیاسی ومذہبی سماجی اور فلاحی تنظیوں کی شرکت ، آئینی حقوق دیے بغیر ٹیکس نہ دینے کا حتمی فیصلہ۔

سکردو میں مرکزی انجمن تاجران سکردو کے زیر اہتمام ل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان میں نافذ کیے جانے والے تمام ٹیکسرز بشمول ملازمین کی تنخواہوں سے کاٹے جانے والے ٹیکس، موبائیل کمپنیوں کی جانب سے کاٹے جانے والے ٹیکسز، سرکاری املاک پر کاٹے جانے والے ٹیکسز اور آئندہ عائد کیے جانے والے تمام ٹیکسیز کو غیر قانونی اور ظالمانہ ٹیکسس قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق کی مکمل فراہمی تک ہر قسم کے ٹیکسز کو فی الفور ختم کرے۔ وزیر اعظم پاکستان چیئرمین جی بی کونسل کی جانب سے ٹیکسزز ختم کرنے کے اعلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے فوری ٹیکسس کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اگر گلگت بلتستان میں عائد ٹیکسز کا خاتمہ نہ ہوا تو 13نومبر سے پورے گلگت بلتستا ن میں شٹرڈوان ہرتال کی کال دی جائے گی، اور اس ہرتال کی وجہ سے جتنے نقصانات ہونگے ، اس کی پوری ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

آل پارٹیرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر غلام شہزاد آغا نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس کا نفاذ ریاستی دہشت گردی ہے ، ٹیکس لاگو کرنے کا کارنامہ ن لیگ کی حکومت کا ہے ، ٹیکس کا نفاز ایک قومی ایشو ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی پڑے گی ، قومی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے ہمیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہوگا۔

آل پارٹیز کانفرنس میں آل پاکستان مسلم لیگ کے چیف آرگنائز حاجی منظوریولتر نے کہا کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن انڈیکشن کی مد میں تمام گاڑی ماکان سے 12000سے 14000روپے وصول کر رہا ہے ، گاڑی کے انڈیکشن نمبر کی مد میں جو کروڑوں روپے جمع ہوتے ہیں وہ پیسے کہاں چلے جاتے ہیں ، انڈیکشن نمبر کی مد میں لی جانے والی رقوم بھی غیر قانونی ہیں ،ہم سے ٹیکس مختلف مد میں وصول کیے جا رہے ہیں ، جو کہ اس خطے کے عوام کے ساتھ سر اسر ذیادتی ہے ، ہمیں اپنی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ، اگر وفاقی پارٹیو ں میں بیٹھ کر ہمارے مسائل حل نہیں ہوتے تو پھر وفاقی پارٹیوں میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ،ہمیں اپنے آنے والے بہتر کل کے لیے آج قربانی دینی پڑے گی۔

جیمز اینڈ منرلز ایسوی ایشن کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی رابطہ سکرٹیری محمد بشیر نے کہا کہ معدنیات کے حوالے سے قانون سازی کا اختیار پہلے جی بی کونسل کے پاس تھا ، لیکن اب ن لیگ کی حکومت کی نااہلی کے باعث یہ اختیار بھی وفاق کے پاس چلا گیا ہے ، ہماری اپنی معدنیات پر ہمار ا حق نہیں ، ہمارے علاقے کی معدنیات پر دوسروں کو قابض کیا جا رہا ہے ، خالصہ سرکار کے نام پر زمینوں کی بندر بانٹ کی جا رہی ہے ، ہم آئینی حقوق کے حصول کے بغیر ٹیکس کسی صورت نہیں دیں گے۔

آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سکرٹیری اطلاعات تقی اخونزادہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں گلگت بلتستان میں ٹیکس لاگو نہیں کیا جا سکتا ، گلگت بلتستان میں ٹیکس کے نفاز کا کارنامہ گلگت بلتستان کونسل کا ہے ، کونسل اراکین نے علاقے کے مسائل حل کرنے کے بجائے صرف مراعات لیں ، وفاق ٹیکس کے نفاز کا زمہ دار کونسل کو قرار دیتا ہے ، اور وفاق کے مطابق کونسل کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکس لاگو کرنا ضروری ہے ، ہماری بدبختی ہے کہ ہمارے ہی اراکین کونسل نے ہم پر ٹیکس لاگو کیا ، گلگت بلتستان کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اہم فورمز پر نمائندگی دیے بنا، ٹیکس کا نفاز کسی صورت قابل قبول نہیں ، ہم ٹیکس ادا کریں گے تو ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی ، ایف بی آر قوانین کا اطلاق گلگت بلتستان میں نہیں ہوتا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء عبد اللہ حیدری نے کہا کہ پہلے گلگت بلتستان کے عوام کو مکمل آئینی حقوق دیے جائیں اور ساتھ ہی NFC سمیت دیگر اہم فورمز پر گلگت بلتستان کے عوام کو نمائندگی دی جائے پھر ٹیکس کے نفاز کی بات کی جائے ، ٹیکس کے نفاز کے خلاف مذہبی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ااد کرنا پڑے گا ،ہم صرف باتیں کرتے ہیں عملی اقدامات نہیں کرتے ، ہمیں باتوں کی دینا سے نکل کر اب عملی میدان میں آنا پڑے گا۔

ڈسٹرک بار ایسوی ایشن سکردو کے صدر صفدر علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم ذاتی مفادات اجتماعی مفادات پر قربان کر دیتے ہیں ، بین الاقوامی قوانین کے تحت گلگت بلتستان میں ٹیکس نافذ نہیں کیا جا سکتا ،گورننس آڈر کی کوئی حیثیت نہیں ، گورننس آڈر ایک سیکشن آفیسر کا جاری کردہ ہے ، ہمیں سپریم کورٹ تک رسائی نہیں ، وفاقی حکمران گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ تماشہ کر رہے ہیں ، پہلے گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق دیے جائیں پھر ٹیکس کے نفاز کی بات کی جائے

انجمن شہریان سکردو کی نمائندگی کرتے ہوئے اخوند محمد علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہمارے مسائل کا آغاز اُس دن سے شروع ہوا ، جس دن ہم نے الگ صوبے کا نعرہ لگایا ،گورننس آڈر کے زریعے برائے نام صوبے کا شو شاچھوڑا گیا ،جس دن گورننس آڈر کے زریعے ہمیں برائے نام صوبہ بنایا گیا اُس دن سے ٹیکس ہمارے گلوں کا پھندہ بن گیا ، گورننس آڈر کے زریعے صرف وزراء اور اراکین کونسل کو مراعات ملیں ، لیکن عوام کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا، اگر اب ہمارا مسئلہ حل ہو گا تو انہی اراکین کونسل اور ممبران اسمبلی کے زریعے حل ہو گا ،ہمیں اس معاملے کے حل کے لیے اراکین کونسل اور ممبران اسمبلی سے بھی رابطہ کرنا چاہیے۔

اسماعیلی برادری سے نمائندگی کرتے ہوئے رحمت اللہ بیگ نے کہا کہ ٹیکس کا نفاز ظالمانہ اقدام ہے ، اور اس ظلم کے خلاف ہم سب کو کھڑا ہونا پڑے گا ، اس معاملے کے حل کے لیے ہمیں قانونی کمیٹی تشکیل دینی پڑے گی ، اور ساتھ ہی اس ظلم کے خلاف عبادت گاہوں سے بھی آواز بلند ہونی چاہے۔

انجمن نور بخشیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے غلام رسول نے کہا کہ ہمارے عوامی نمائندے مسائل حل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہمیں عوامی نمائندوں کے چناو کے دوران رنگ و نسل سے بالاتر ہو اہل لوگوں کا انتخاب کرنا پڑے گا ، عوامی نمائندوں کی نااہلی کی وجہ سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

صحافیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے صدر پریس کلب سکردو محمد حسین آزاد نے کہا کہ ہماری بھاگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں پر ہے ، جو ہمارے مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ،ہمارے نمائندے وفاقی پارٹیوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں ، ہمیں ٹیکس ایشو کے خاتمے کے لیے قانونی جنگ لڑنی پڑے گی ، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوا م سے جی ایس ٹی کی مد میں ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ، اس ضمن میں وصول کیا جانے والا ٹیکس بھی غیر قانونی ہے ، جی ایس ٹی کی مد میں وصول کیے جانے والے ٹیکس میں گلگت بلتستان کو حصہ دیا جائے اگر حصہ نہیں دیا جاتا تو پھر یہ ٹیکس وصول کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

انجمن امامیہ شگر کی نمائندگی کرتے ہوئے انجمن امامیہ شگر کے صدر سید طحہ شمش الدین نے کہا کہ ٹیکس کے نافذ کے خلاف آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے ، شگر کے عوام انجمن تاجران سکردو کے ساتھ کھڑے ہیں ، پرائیوٹ سکولز نیٹ ورک کی نمائندگی کرتے ہوئے فدا حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان کونسل کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، یہ عوام کے سر پر لٹکتی ہوئی ایک تلوارہے ، پیپلزپارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر ٹیکس کے نفاز کے جرم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں ، تاہم عوام کے عیضب و غصب سے یہ دونوں جماعتیں بچ نہیں پائیں گی۔

ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سکرٹیری اشرف حسین حسینی نے کہا کہ ٹیکس کا نفاز غیر قانونی ہے ، اس غیر قانونی ٹیکس کے خلاف ٹرانسپورٹر ز انجمن تاجران سکردو کے ساتھ کھڑے ہیں۔

گورنمنٹ کنٹریکٹر ایسوی ایشن کے صدر شیخ عباس نے کہا کہ گلگت بلتستان سے سالانہ 35ارب روپے ٹیکس کی مد میں وفاق وصول کرتا ہے ، لیکن گلگت بلتستان کا ترقیاتی بجٹ صرف 12ارب روپے ہے ، ہمیں این ایف سی ایواڈ سے محروم رکھا گیا ہے ، اگر این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دیا جائے تو ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ہو سکتاہے ، ٹیکس کا نفاز کسی صورت قبول نہیں ، انہوں نے ٹیکس کے خلاف مہم میں انجمن تاجران سکردو کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

سول سوسائٹی کے نمائندگی کرتے ہوئے حاجی احسان نے کہا کہ این ٹی این نمبر کے بغیر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جو سراسر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ، ٹیکس فری زون ہونے کے باوجود ہم سے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

بلتستان یوتھ الانس کی نمائندگی کرتے ہوئے بشارت شاہ جی نے کہا کہ گلگت بلتستان پر ٹیکس عائد کرنے پر کونسل اور وفاق کے خلاف غداری کا مقدمہ چل سکتاہے۔

آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین آغا مظاہر الموسوی نے کہا کہ جب عوام متحد ہوئے تو بارہ روز دھرنہ دے کر سبسڈی برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی تو ٹیکس کے کلاف متحد ہو کر اس غیر آئینی اقدام کو ختم کیوں نہیں کیا جا سکتا جب تک ہم متحد نہیں ہونگے ، ہمیں حقوق نہیں مل سکتے۔

بی ایس ایف کے چیف آرگنائز آصف ناجی نے کہا کہ بی ایس ایف کئی سالوں سے آئینی حقوق کے حصول کی جدوجہد کر رہی اگر اُس وقت گلگت بلتستان کے عوام ہمیں غدار نہ کہتے تو متحد ہو کر جدوجہد کرتے تو ہمیں آئینی حقوق مل چکے ہوتے۔

مشترکہ قرارد پیش کرتے ہوئے انجمن تاجران سکردو کے صدر غلام حسین اطہر نے کہا کہ ٹیکس کے نفاز کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے اگر یہ فیصلہ فوری واپس نہ لیا گیا تو انجمن تاجران سکردو پورے صوبے میں شٹرڈوان ہرتال کی کال دے گی ، اور اس نتیجے میں پیدا ہونے والے ساری صورت حال کی زمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

آل پارٹیز کانفرنس میں حکمران جماعت ن لیگ ن نے شرکت نہیں کی ، جبکہ ایم ڈبیلو ایم کی بھی کوئی نمائندگی نظر نہیں آئی ۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔