گلگت بلتستان میں کسی غریب پر کوئی ٹیکس نہیں لگ رہا ہے، وزیر اعلی گلگت بلتستان

اسلام آباد (پ ر)گلگت بلتستان ہاؤس اسلام آباد میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد جمہوریت میاں محمد نواز شریف کے یوم پیدائش کے حوالے سے ایک پر وقار تقریب کا انعقاد گیا۔

تقریب کی صدارت وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کی ،جس میں سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی حاجی فدا محمد ناشاد،ڈپٹی سپیکر جعفرا للہ خان ،وزیر تعمیرات ڈاکٹر اقبال ،وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی ،وزیر جنگلات عمران وکیل،چیر مین سڈینگ کمیٹی اشرف صدا ،رکن کونسل ارمان شاہ کے علاوہ کثیر تعداد میں مسلم لیگی رہنماؤں کارکنوں اور ایم ایس ایف کے جوانوں نے شرکت کی۔ تقریب میں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ پچیس دسمبر کا دن قوم کیلئے تہری خوشیاں لایا ہے اس دن عظیم پیغمبر حضرت عیسی علیہ السلام کا یوم پیدائش،قائد اعظم محمد علی جناح جنہوں نے پاکستان بنایا اور قائد جمہوریت میاں محمد نواز شریف جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی اور معاشی قوت بنایا کا یوم پیدائش ہے۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کو یاد رکھتے ہوئے ان کے فلسفے پر کاربند رہتی ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کو قیادت میسر نہیں ہوئی تھی لیکن نواز شریف کی صورت میں قوم کو ایک ایسی قیادت ملی جنہوں نے ملک کو ترقی اور وحدت کی نئی سمتوں سے روشناس کرایا نواز شریف ایک نظریاتی رہنما ہیں ،نظریاتی رہنماؤں کو ہتھکڑیاں ،جیلیں اور سازشیں کمزور نہیں کر سکتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو خوش فہمی ہو گئی تھی کہ مسلم لیگ ن ختم ہوگئی ہے لیکن انہیں شایدیہ خبر نہیں تھی کہ مسلم لیگ ن اور نواز شریف ایک نظر یے کا نام ہے اور نظر یے کبھی ختم نہیں ہوا کرتے ہیں۔ نواز شریف قوم کی سیاست کر رہے ہیں نواز شریف کی سوچ کی مخالفت ملک میں یا تو جعلی خان کر رہا ہے اور یا جعلی بھٹو کر رہا ہے ان کو خدشہ ہے کہ نوازشریف کی قومی خدمات اور وعدوں کی تکمیل ہو گئی تو ان کی سیاست ختم ہوگی۔ یہی کچھ گلگت بلتستان میں ہو رہا ہے ہماری حکومت نے جو وعدے کئے تھے وہ پورے کر دئے ہیں مخالفین کو خوف طاری ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو موقعہ دیا گیا تو ان کی سیاست دفن ہو جائے گی کچھ لوگ کمیٹی کمیٹی کھیل کر اپنے مفادات کا کھیل کھیل رہیں ہیں جہاں تک تاجروں کے خدشات ہیں ہم دور کر رہے ہیں لیکن ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا کیا ہے ہمیں معلوم نہیں ،جزباتی نعروں سے قوم کو بے قوف بنانے کا وقت گیا اب قوم کارکردگی مانگتی ہے اور مسلم لیگ ن کی حکومت نے ڈھائی برسوں میں گلگت بلتستان میں اپنے کئے ہوئے وعدوں کی تکمیل کر کے اپنے آپ کو قومی خدمت کی جماعت ثابت کر دیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس2012میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں لگا ہم نے اس وقت اسے سیاست کیلئے استعمال نہیں کیا جن لوگوں کے دستخطوں سے ٹیکس لگا آج وہ بھی عوام کو بڑھکا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں کسی غریب پر کوئی ٹیکس نہیں لگ رہا ہے یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ اپنی سیاست کیلئے جھوٹ بول کر منفی پروپگنڈہ کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن اکیلی حکومت میں ہے اور اپوزیشن کی چودہ جماعتیں ہیں سب مل کر منفی پروپگنڈہ کر رہی ہیں تو جھوٹ کو اتنا بولو کہ سچ لگے کے فارمولے کے تحت جھوٹ کو سچ بنایا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی غریب پر کوئی ٹیکس نہیں لگ رہا ہے ،ہاں البتہ گلگت بلتستان کی قوم کو ایک باوقار اور خود انحصار قوم بنانے کیلئے،ملٹی نیشنل کمپنیوں ،بنکوں اور بڑے اداروں اور بڑے سر کاری ملازمیں و امرا کو ٹیکس نیٹ میں لا یا ہے۔ گلگت بلتستان میں درجنوں بنک کام کر رہے ہیں ان کے منافع پر ٹیکس لگے جو گلگت بلتستان میں خرچ ہو ،بڑی تنخواہوں والے سرکاری ملازمین ،حکومتی اراکین ،وزرا اور حکمران طبقہ ٹیکس دے رہا ہے اور حاصل شدہ رقم گلگت بلتستان میں خرچ ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سی پیک میں گلگت بلتستان کو دھواں ملے گا اگر قوم کو اسی طرح اپنے سیاسی مفاد کیلئے استعمال کیا گیا تو دھواں ہی ملے گا کیونکہ سی پیک بزنس پلان ہے اس بزنس پلان کے تحت گلگت بلتستان میں بیرونی سرمایہ کار آئیں گے ان سے ٹیکس کی صورت میں ہی گلگت بلتستان کو مالی فائدہ ملے گا۔ اسی طرح دیامر بھاشا ڈیم اور میگا منصوبوں کیلئے بھاری رقم آرہی ہے ہم نے کہا ہے کہ یہ تمام رقم گلگت بلتستان کے بنکوں کے زریعے ہی لائی جائی ٹیکس کا نظام نہ ہو تو اتنی بڑی رقم کے فوائد سے ہم محروم ہوں گے۔ بنکوں کا ودہولڈنگ ٹیکس ختم ہوگا۔

وزیر اعلی نے مزید کہا کہ ریاست کی رٹ چیلنچ کرنے کا حق کسی کو نہیں دیا جائے گا پر امن احتجاج ریکا رڑ کرانے میں حکومت کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ ہمارے علم میں ہے کہ گلگت بلتستان کی پر امن فضا کو خراب کرنے کیلئے کوششیں ہو رہی ہیں لیکن ہم ایسا کوئی موقعہ نہیں دیں گے کہ کچھ لوگ اپنے مفادات کیلئے گلگت بلتستان کے امن کو خراب کریں۔ گلگت بلتستان کے امن کیلئے قوم نے بہت قربانیاں دی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments