گولین گول پراجیکٹ سے اپر چترال کوبجلی نہ ملنے پر شدید ترین احتجاج کے لئے بچوں اور خواتین کو سڑکوں پر لانے پر مجبور ہوں گے۔ایم پی اے سردار حسین کی پریس کانفرنس

چترال (بشیر حسین آزاد) اپر چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن ؂سید سردار حسین شاہ نے کہا ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے بجلی سے محروم سب ڈویژن مستوج اور کوہ یونین کونسل کے 21ہزاروں گھرانوں کے عوام کی صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے اور گولین گول ہائیڈرو پراجیکٹ سے بجلی نہ ملنے پر وہ شدید ترین احتجاج کرنے کے لئے بچوں اور خواتین کو بھی سڑکوں پر لانے پر مجبور ہوں گے اور وزیر اعظم کے ہاتھوں اس پراجیکٹ کا افتتاح ہونے بھی نہیں دیں گے اور صوبائی حکومت کو چاہئے کہ اس مجبور عوام کے صبر کا مزید امتحان لینے کی غلطی نہ کرے جوکہ اب تک صبرو سکون اور نظم وضبط کا مظاہر ہ کرتے آرہے ہیں۔

پیر کے روز چترال پریس کلب میں تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف، نائب تحصیل ناظم فخر الدین، سابق ایم پی اے مولانا عبدالرحمن، ممبران ضلع کونسل مولانا جاوید حسین اور شیر عزیز بیگ اور ممبر تحصیل کونسل قاضی سیف الدین کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 2015ء میں ریشن بجلی گھر کی سیلاب بردگی کے بعد سے نہ تو صوبائی حکومت کا ادار ہ پیڈو نے کوئی 21ہزارصارفین کے لئے متبادل بندوبست کیا ہے اور نہ تو بجلی گھر کی تعمیر نو پر کام شروع کیا ہے جبکہ متاثرہ صارفین کی نظرین واپڈا کے گولین گول پراجیکٹ پر لگی ہوئی تھیں جوکہ اب مکمل ہوگئی ہے لیکن اضافی بجلی کی دستیابی کے باوجود اس بجلی سے ان کو محروم رکھا جارہا ہے جس سے ان میں تشویش اور پریشانی کی لہر دوڑگئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سب ڈویژن مستوج کے گاؤں گاؤں میں اب احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جوکہ اس وقت گھمبیر صورت اختیار کرے گی جب گولین بجلی گھر کی افتتاح کے بعد بھی ان کو بجلی نہ ملے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مستوج کے عوام مزید صبر کا مظاہر ہ نہیں کرسکیں گے اور احتجاج کی صورت میں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے پر تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی جبکہ اب تک چترال کے عوام امن وامان کے لحاظ سے پورے ملک کے لئے مثال کا درجہ رکھتے ہیں اور ایسے پرامن عوام کو تنگ آمد ،بجنگ آمد پر مجبور نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی اسمبلی نے پہلے ہی متفقہ قرار داد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیسکو کے ساتھ معاہدہ کرکے گولین گول بجلی گھر سے بجلی حاصل کرکے پیڈو کے صارفین کو فراہم کی جائے لیکن اس پر بھی عملدرامد نہ ہوا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments