وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا وفاق پر ‘ویزا آن ایرائیول’ پالیسی پر عمل درآمد روکنے کا الزام

اسلام آباد (فدا حسین) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے وفاقی حکومت پر ‘ویزا آن ایرائیول’ پالیسی پر عمل درآمد روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پہاڑوں کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کے موقع پر ریڈیو نیوز نیٹ ورک سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال کو وزات داخلہ کا قلمدان ملنے بعد 24ملکوں کے سیاحوں کے لئے ‘ویزا آن ایرائیول’ پالیسی کا اجراء کیا تھا جس پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے غیر اعلانیہ طور پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹیکفیشن تو جارہی نہیں ہوا ہے مگر موجودہ حکومت کی طرف سے نہ تو ویزا آن ایرائیول کے حوالے سے کوئی باقاعدہ تشہیری مہم چلائی جا رہی ہے اور نہ ہی ایئر پورٹس پر سیاحوں کو ویزہ کے لئے کوئی سہولت دی جا رہی ہے ۔

ان کا مزیدکہنا تھاکہ انہوں نے وفاقی حکومت کو اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہ۔

یاد رہے کہ اس پالیسی کی بحالی رواں سال جون میں ہوئی تھی۔ جن ممالک کے سیاحوں کے لیے آمد پر ویزا کی سہولت دی گئی تھی ان میں آسٹریلیا، بیلجیئم، کینیڈا، چین، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، آیس لینڈ، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، لگزمبرگ، ملائیشیا، نیدر لینڈز، ناروے، پرتگال، سنگاپور، سپین، سویڈن، تھائی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ اس پالیسی کےاجرا پرسابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نےکافی تنقید بھی کی تھی۔

سابقہ حکومت کی طرف سے ویزا آن ایرائیول پالیسی کے اجرا پر پاکستان ٹور آپریٹر ایسوی ایشن کے سابق صدر اور موجودہ ٹورزم ٹاسک فورس کے رکن عرفان اللہ بیگ نے اس پالیسی کی بحالی کو سیاحت کے شعبے کے لئے ہوا کا تازہ جھونکاقرار دیا تھا۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق 9ستمبر 2001میں امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے واقعے سے پہلے پاکستان میں سیاحوں کو ائرپورٹ پر ہی ویزے کا اجرا کیا جاتا ہے جسے اس واقعے کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح پالیسی کے باوجودریمنڈیوس جیسے لوگوں کو ویزا ملتا رہا مگر اصلی سیاحوں ویزا نہیں ملا۔

پہاڑوں کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن نے کہاکہ پہاڑوں سے محبت کا تقاضا ہے تمام پہاڑوں کی حفاظت کی طرف توجہ دیں ۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پہاڑوں کی تحفظ کی طرف توجہ نہیں دی گئی تو ملکی اور بین الاقوامی دونوں سطح پر بڑے نقصانات ہو سکتے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments