آغا خان ایجوکیشن سروس اور ڈائمنڈ جوبلی سکولوں کا اعزاز، قراقرم ینیورسٹی  امتحانی بورڈ میں امتیازی مقام

گلگت ( خصوصی رپورٹ) گلگت بلتستان میں آغا خان ایجو کیشن  سروس کےڈائمنڈ جوبلی سکول کے دو طالبات نے جماعت نہم کے   بورڈ کے  سالانہ امتحان میں قراقرم امتحانی  بورڈ سے ملحقہ تمام سکولوں سے سبقت پاتے ہوئے پورے بورڈ میں پہلی اور دوسری پوزیشن اپنے نام کر کے ریکارڈ قائم کیا ۔

تفصیلات کے مطابق آغا خان ایجوکیشن  سروس پاکستان ، گلگت بلتستان کے زیر انتظام مصروف عمل سکولوں میں 28 سکولو ں کا الحاق قرارقرم امتحانی بورڈ کے ساتھ ہے ۔ گلگت بلتستان سے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں طلبہ اس بورڈ سے ثانوی اور اعلیٰ ثانوی کے امتحانات میں شامل ہوتے ہیں  جن میں آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان ، گلگت بلتستان کے ڈائمنڈ جوبلی سکولوں کے بچے بچیاں بھی  شامل ہیں لیکن اس سال  ڈائمنڈ جوبلی سکول محمد آباد گلگت اور ڈائمنڈ جوبلی سکول سونی کوٹ گلگت کی طالبات، مسمات نازیہ جہان ولد محمد عظیم ، ضلع  غذر تحصیل پھنڈر اور  مسمات  انیلہ عیسیٰ ولد محمد عیسیٰ  ضلع غذر تحصیل یاسین گاؤں سندی نے 550  نمبروں میں سے باالترتیب  481 اور 479  نمبر حاصل کرکے   اپنے خاندان ، ادارہ ، سکول اور پورے گلگت بلتساتن کا نام روشن کیا ۔ دونوں طالبات نے اپنی  اس شاندار کامیابی پر بات چیت کرتے ہوئے آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان  اور خصوصاً  لوکل لیڈر شب  کی  پُر عزم حکمت عملی کو سرا ہا اور کہا کہ ہماری کامیابی آغا خان ایجوکیشن سروس خصوصاً گلگت بلتستان میں کام کرنے والے پیشہ ور افراد کی اَنتھک کوششوں کا شاندار نتیجہ ہے کہ وہ ہماری  توجہ تعلیم کی طرف مبذول کروانے میں دن رات کوشاں ہیں ۔ ہمارے اساتذہ کو وقت کے جدید تقاصوں کے مطابق پیشہ وارانہ تربیت دینا ، ہمارے سکولوں میں امن آشتی کی فضا پیداکرنا ، سکولوں  کی عمارتوں اور کمرہ  جماعتوں کو جدید طرز تدریس کی ضرورتوں اور تقاضوں کے عین مطابق بنا کر ایک بہترین تعلیمی موحول پیدا کرنا وہ  اہم عوامل ہیں جو ہماری شاندار کامیابی کے پیچے کار فرما تھے اور ہیں ۔  انہوں نے جہاں اپنی کامیابی کے پیچھے ادرے کی  سخت محنت کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اپنے سکول کے پرنسپلز مسٹر عارف اللہ بیگ اور ثمینہ بیگم کی اعلی ٰ پیشہ وارانہ قیادت اور اساتذہ کی جہد مسلسل اور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  سکول ہیڈ اور اساتذہ مل کر سال کے شروع میں ایک منصوبہ بندی ترتیب دیتے  ہیں اور پھر اپنے تعین کردہ اہداف کو حاصل کرنے کی ہر ممکن کوش کرتے ہیں ۔ ہیڈ اور اساتذہ سکول میں اساتذہ کی تعداد ، ان کی مہارت ،طلبا و طالبات کی ذہنی استعدادِ کار کا خوب کھوج بین لگانے کے بعد اس نتیجے پر پہنج جاتے ہیں کہ اُن کے سکولوں میں کتنے  فیصد بچوں کو کتنے فیصد نمبروں سے امتحان پاس کرلینا چاہئے  ۔ وہ اس سلسلے میں والدین سے بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں ۔ یہی نہیں ریجنل سکول ڈیویلمنٹ یونٹ کا ہیڈ (  اس ریجن کے نثار کریم ہیں) اپی ٹیم کے ساتھ  بورڈ سے ملحق سکولوں کا بطور خاص دورہ کرتے رہتے ہیں  ۔ طلبات نے کہا کہ ہم اپنی پڑھائی کے لئے وقت نکالتے ہیں اور ٹائم ٹیبل کے مطابق کام کرتے ہیں لیکن  ادارے کی طرف سے سال میں دو مرتبہ  پری بورڈ امتحان  ( Pre- Board Examinations) کا اہتمام کیا جا تا ہے جس کے لئے آغا خان ایجوکیشن سروس کے  پیشہ ور افراد ، جوکہ مختلف مضامین میں خصوصی قابلیت  اور مہارتوں کے حامل ہوتے ہیں ، کی مدد سے بورڈ کے امتحان کی بہتر تیاری کےلئے پرچے بنائے جاتے ہیں جن سے گزر نے کے بعد بورڈ کا امتحان بڑی حد تک آسان معلوم ہوتا ہے ۔

بورڈ کے سالانہ امتحانات میں  شاندار کارکردگی دکھانے والی بچی نازیہ جہاں کے والد  محمد عظیم نے ہمارے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوے کہا کہ میرا تعلق گلگت بلتستان کے ایک دور افتادہ علاقہ پھنڈر سے ہے میں گلگت میں مقیم ہوں اور میرے  پھنڈر سے ہجرت کر کے  گلگت آکر مشکل معاشی حالات کے باوجود  گھر بسانے اور اپنے بچوں کو زیور  تعلیم  سے آراستہ  کرنے کا خواب آج شرمندہ تعبیر ہوا ۔ میری بچی کی کامیابی میں  میری اپنی نیک نیتی ،سکول کے ٹیچر ، سکول کے سر پرست  ثمینہ بیگم کے علاوہ آغا خان ایجوکیشن سروس کی دور اندیش قیادت  کا بڑا ہاتھ ہے  ۔

بورڈ میں دوسری پوزیشن لینے والی بچی انیلہ کے والد محمد عیسیٰ نے کہا کہ میں آرمی سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد بچوں کی تعلیم کی خاطر گلگت شہر میں ایک چھوٹا سا جھونپڑا بنا کر  اپنے بچوں کو تعلیم دے رہا ہوں ۔ میرے دو بچے اور دو بچیاں ہیں جوکہ اسی سسٹم میں زیر تعلیم ہیں ۔ انہوں نے  اپی بچی کی اس شاندار کامیابی پر ڈی- جے سکول سونی کوٹ کے پرنسپل اور اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُن کی محنت کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ انہوں نے  سکولوں پر سنجیدگی سے توجہ مبذول کرنے پر آغا خان ایجوکیشن سروس  پاکستان کے اعلی حکام  اور گلگت بلتسان کی قیادت کی علاقے کے لئے  خلوص و محبت اور  محنت سے کام کرنے پردعاؤں کے ساتھ  خراج تحسین پیش کی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments