گلگت بلتستان کی اسماعیلی کمیونٹی: تعلیمی و سماجی ارتقا کا چوتھا مرحلہ

کالم: قطرہ قطرہ

گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑوں، دور افتادہ وادیوں اور دشوار گزار بستیوں میں ترقی کا سفر کبھی آسان نہیں رہا۔ ایک ایسا خطہ جہاں چند دہائیاں قبل زندگی کا بیشتر انحصار زراعت، مویشی بانی اور روایتی معاشی ذرائع پر تھا، وہاں جدید تعلیم، صحت، سماجی شعور اور انسانی ترقی کے تصورات متعارف کروانا ایک غیر معمولی جدوجہد تھی۔ آج اگر گلگت بلتستان کو پاکستان کے ان علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں شرح خواندگی، کمیونٹی تنظیم سازی اور انسانی ترقی کے اشاریے نسبتاً بہتر ہیں تو اس کے پیچھے کئی دہائیوں پر محیط ایک مسلسل فکری اور عملی سفر کارفرما ہے۔

یہ سفر دراصل اسماعیلی اماموں کی تعلیم دوستی اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے مختلف اداروں کی مربوط کاوشوں کی داستان ہے، جسے مجموعی طور پر چار بڑے ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ

اس سفر کا آغاز 1946 میں ہوا جب سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم نے اپنی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں سولہ ڈائمنڈ جوبلی سکول قائم کیے۔ اس وقت خطے میں جدید تعلیم تقریباً ناپید تھی۔ چند سرکاری سکول ضرور موجود تھے مگر ان تک رسائی محدود تھی۔ عام لوگ تعلیم کو معاشی ضرورت نہیں سمجھتے تھے کیونکہ زندگی کا انحصار آبائی پیشوں پر تھا۔ ایسے ماحول میں یہ سکول امید کی پہلی کرن ثابت ہوئے۔ اس زمانے کے اساتذہ صرف معلم نہیں بلکہ سماجی مصلح بھی تھے جو گھر گھر جا کر والدین کو بچوں کی تعلیم کے لیے آمادہ کرتے تھے۔ مقامی بزرگ آج بھی یاد کرتے ہیں کہ تعلیم کی شدید خواہش رکھنے والے کئی نوجوان، جن کی عمریں اٹھارہ سے بیس برس تک پہنچ چکی تھیں، پہلی بار انہی سکولوں میں داخل ہوئے۔ یہی وہ دور تھا جس نے خطے میں خواندگی، تعلیمی شعور اور مستقبل کے انسانی وسائل کی بنیاد رکھی۔

جب بنیادی خواندگی کا شعور پیدا ہوا تو ترقی کے سفر نے دوسرا رخ اختیار کیا۔ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں صرف سکول قائم کرنا کافی نہیں سمجھا گیا، بلکہ لوگوں کو اجتماعی ترقی، معاشی استحکام اور خود انحصاری کی طرف راغب کیا گیا۔ مختلف علاقوں میں ملٹی پرپز سوسائٹیز قائم ہوئیں جنہوں نے مقامی آبادی کو بچت، باہمی تعاون، منصوبہ بندی اور کمیونٹی کی سطح پر مسائل حل کرنے کا شعور دیا۔ اسی عرصے میں کریم آباد، شیر قلعہ اور دیگر علاقوں میں معیاری تعلیمی ادارے قائم ہوئے جہاں لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ پہاڑی معاشروں میں اس وقت خواتین کی تعلیم ایک بڑا سماجی چیلنج تھی مگر انہی کوششوں کے نتیجے میں خواتین کی خواندگی میں نمایاں اضافہ ہوا اور ایک نئی سماجی تبدیلی نے جنم لیا۔

اسی دوران امام شاہ کریم الحسینی آغا خان چہارم کی قیادت میں ترقی کا تصور مزید وسیع ہوتا گیا۔ تعلیم کو صحت، معیشت اور سماجی بہبود سے جوڑا گیا۔ اسیّ کی دہائی میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) کا قیام عمل میں آیا جس نے گلگت بلتستان کی دیہی معیشت میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں۔ مقامی تنظیموں، آبپاشی کے نظام، زرعی اصلاحات، خواتین کی شمولیت اور چھوٹے پیمانے کی معیشت کے فروغ کے ذریعے لوگوں کو اپنے وسائل کے بہتر استعمال کا شعور ملا۔ اسی دور میں آغا خان ہیلتھ سروسز نے بنیادی صحت کی سہولیات، زچہ و بچہ کی نگہداشت، حفاظتی ٹیکہ جات اور کمیونٹی ہیلتھ پروگرامز کے ذریعے دور دراز علاقوں تک طبی خدمات پہنچائیں۔ اس کے نتیجے میں شرح اموات میں کمی آئی اور صحت عامہ کے اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔

نوے کی دہائی میں یہ سفر مزید وسعت اختیار کر گیا۔ آغا خان فاؤنڈیشن، فوکس ہیومینیٹیرین اسسٹنس، آغا خان کلچرل سروسز اور دیگر اداروں نے مختلف شعبوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھائیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے فوکس نے کمیونٹیز کو ریسکیو، ایمرجنسی رسپانس اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی تربیت دی۔ آغا خان کلچرل سروسز نے تاریخی ورثے کے تحفظ اور ثقافتی شناخت کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔ واٹر اینڈ سینیٹیشن ایکسٹینشن پروگرام (WASEP) اور دیگر منصوبوں نے صاف پانی، نکاسی آب اور حفظان صحت کی سہولیات فراہم کرکے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا۔ ان پروگراموں نے بیماریوں میں کمی اور صحت مند طرز زندگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

دو ہزار کے بعد ترقی کے اس سفر نے ایک اور اہم موڑ لیا۔ ابتدائی بچپن کی تعلیم (ECD) کے مراکز قائم کیے گئے جہاں بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر خصوصی توجہ دی جانے لگی۔ آغا خان ہائر سیکنڈری سکولز نے عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرنا شروع کی۔ ہر سال نوجوانوں کی نئی کھیپ ملک اور دنیا کی ممتاز جامعات تک پہنچنے لگی۔ اساتذہ کی تربیت، جدید نصاب، انفراسٹرکچر اور تعلیمی اصلاحات کے ذریعے گلگت بلتستان کے نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہوئے۔ نتیجتاً اس خطے کے طلبہ ہارورڈ، آکسفورڈ، کیمبرج اور دیگر معروف جامعات تک رسائی حاصل کرنے لگے۔

تاہم ترقی کا یہ سفر صرف تعلیمی ڈگریوں یا پیشہ ورانہ کامیابیوں تک محدود نہیں رہا۔ دو ہزار بیس کے بعد ایک نئے اور زیادہ گہرے مرحلے کا آغاز ہوا ہے۔ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ تعلیم یافتہ افراد صرف کامیاب پیشہ ور ہی نہ ہوں بلکہ باشعور، بااخلاق اور ذمہ دار شہری بھی بنیں۔ حال ہی میں گلگت میں اپنے پیروکاروں سے خطاب کرتے ہوئے امام شاہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم نے واضح کیا کہ تعلیم صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے ماحول، معاشرے اور مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کا عمل ہے۔

اسی تناظر میں اب سوفٹ اسکلز، تنقیدی سوچ، تحقیق، کمیونیکیشن، ڈیجیٹل خواندگی، قیادت سازی، متعدد زبانوں پر عبور اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی ذہنی صحت، صنفی مساوات، انسانی وقار، نوجوانوں کی رہنمائی، مالی شمولیت اور کمیونٹی ویلفیئر جیسے موضوعات بھی ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ بن چکے ہیں۔

آج گلگت بلتستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں گھریلو تشدد، عدم برداشت، صنفی امتیاز، کمزور طبقات کے حقوق، موسمیاتی تبدیلی، گورننس اور وسائل کے بہتر استعمال جیسے چیلنجز شامل ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف قوانین یا حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ ایسے باشعور افراد سے ممکن ہے جو انسان کو انسان سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اپنی ذمہ داریوں کا ادراک رکھتے ہوں۔

اسی سوچ کی عکاسی امام شاہ رحیم کے ان حالیہ فرامین میں بھی نظر آتی ہے جن میں انسانی وقار، احترامِ انسانیت اور عدم تشدد پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ یہ دراصل اس طویل ارتقائی سفر کا منطقی تسلسل ہے جو 1946 میں خواندگی کے ایک چھوٹے سے چراغ سے شروع ہوا تھا۔ اگر پہلی نسل نے پڑھنا لکھنا سیکھا، دوسری نسل نے کمیونٹی ادارے بنائے، تیسری نسل نے عالمی معیار کی تعلیم اور ترقی کے مواقع حاصل کیے، تو چوتھی نسل کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ علم، اخلاق، مساوات اور خدمتِ انسانیت کو یکجا کرکے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے جو نہ صرف ترقی یافتہ ہو بلکہ منصفانہ، پرامن اور انسانی اقدار سے بھی بھرپور ہو۔

گھریلو تشدد کے حوالے سے مارچ 2026 میں ٹورنٹو، کینیڈا میں فرمائے گئے ایک فرمان کا اقتباس ملاحظہ ہو:

"انسان اللہ کی سب سے معزز مخلوق ہے۔ اپنے گھروں میں، اپنے بزرگوں کے ساتھ، اپنے شوہر یا بیوی کے ساتھ، اپنے بچوں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ گہری عزت کا سلوک کریں، ایسی عزت جو اللہ کی سب سے معزز مخلوق کی عزت کرتی ہو۔

میں بالکل صاف اور سادہ الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میری جماعت میں جسمانی یا جذباتی تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

گھریلو تشدد، بزرگوں کا استحصال، بچوں پر ظلم، اپنے شوہر یا بیوی کے ساتھ بدسلوکی، یہ ناقابلِ قبول ہے۔ یہ غیر قانونی ہے، یہ غیر اخلاقی ہے، اور یہ اللہ کی مخلوق کے لیے شدید بے عزتی ہے۔”

یوں گلگت بلتستان میں اسماعیلی کمیونٹی کا یہ سفر صرف سکولوں، ہسپتالوں، ترقیاتی منصوبوں یا ڈگریوں کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسی فکری تحریک کی تاریخ ہے جس نے ایک دور افتادہ پہاڑی معاشرے کو خواندگی سے شعور، شعور سے ترقی، اور ترقی سے انسانی وقار کے سفر تک پہنچایا ہے۔ آج اس سفر کا چوتھا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، اور اگر اس سفر کی سمت برقرار رہی تو آنے والی نسلیں نہ صرف اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہوں گی بلکہ پورے خطے کی سماجی، معاشی اور فکری قیادت بھی سنبھال سکیں گی۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button