استاد مہر کریم — ایک چراغ جو بجھ کر بھی روشنی بانٹتا رہے گا
زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف اپنے عہد کے نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلوں کی فکری میراث بن جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی علم، کردار اور انسان دوستی کی ایسی خوشبو بکھیرتی ہے جو وقت گزرنے کے باوجود ماند نہیں پڑتی۔ استاد مہر کریم بھی انہی نایاب شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ صرف ایک استاد نہیں تھے بلکہ علم کے ایسے امین تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی نئی نسل کی فکری تربیت، اخلاقی تعمیر اور معاشرتی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے انہیں علم کی شمع روشن رکھنے کے لیے ہی پیدا کیا تھا۔ ان کی گفتگو میں علم کی مٹھاس، کردار میں عاجزی، طبیعت میں وقار اور سوچ میں دور اندیشی نمایاں تھی۔ وہ ان اساتذہ میں شمار ہوتے تھے جن کے لیے تدریس صرف روزگار نہیں بلکہ عبادت کا درجہ رکھتی تھی۔
مرحوم کا تعلق ایک ایسے علمی خاندان سے تھا جہاں تعلیم ایک روایت بھی تھی اور ایک ذمہ داری بھی۔ ان کے والدِ بزرگوار نے تدریس کے مقدس پیشے کو عزت بخشی، ان کے برادرِ حقیقی پرنسپل جاوید صاحب نے اسی روایت کو آگے بڑھایا، جبکہ ان کی اہلیہ آج بھی اسی مقدس پیشے سے وابستہ ہو کر نئی نسل کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ اس خاندان کی ہر نسل نے معاشرے کو علم کا تحفہ دیا، اور استاد مہر کریم اس روشن سلسلے کی ایک درخشاں کڑی تھے۔
مجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ وہ گورنمنٹ ہائی اسکول کریم آباد میں میرے استاد رہے۔ بعد ازاں کریم آباد ویلفیئر ایسوسی ایشن میں ایک طویل عرصے تک ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ اس دوران میں نے انہیں قریب سے دیکھا، سمجھا اور ان کے اخلاص، دیانت اور خدمت کے جذبے کو محسوس کیا۔
وہ ایک ایسا دور تھا جب کریم آباد ویلفیئر ایسوسی ایشن زوال پذیر تھی اور ہاسی گاوا اسکول کو بھی بے شمار مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسے نازک حالات میں استاد مہر کریم نے بطور نائب صدر نہ صرف ادارے کو نئی سمت دی بلکہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں، خلوص اور انتھک محنت سے اس کی بحالی میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ہاسی گاوا اسکول کو ہائیر سیکنڈری سطح تک پہنچانے میں ان کی شب و روز محنت اور دور اندیشی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ یہ ان کی ایسی خدمت ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید نمایاں ہوتی جائے گی۔
استاد مہر کریم کی سوچ صرف اپنے محلے غیمس تک محدود نہیں تھی۔ ان کا خواب پورا ہنزہ تھا، جہاں ہر بچہ تعلیم کی روشنی سے منور ہو، ہر نوجوان شعور سے آراستہ ہو اور ہر گھر میں علم کی قدر ہو۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ قوموں کی تقدیر ہتھیاروں سے نہیں بلکہ قلم اور کتاب سے بدلتی ہے، اسی لیے انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھیں۔
چند برس قبل جب وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئے تو بہت سے لوگوں نے سمجھا کہ شاید اب وہ آرام کریں گے، مگر بیماری کو شکست دینے کے بعد وہ پہلے سے زیادہ عزم اور ولولے کے ساتھ دوبارہ درس و تدریس اور سماجی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ گویا انہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک علم کی شمع بجھنے نہیں دی۔
آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ایک سچا استاد کبھی رخصت نہیں ہوتا۔ وہ اپنے شاگردوں کے کردار، اپنے دیے ہوئے علم، اپنی تربیت اور اپنی نیک نامی میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ استاد مہر کریم بھی اپنے ہزاروں شاگردوں کی کامیابیوں، اپنے اداروں کی ترقی اور اپنی بے لوث خدمات کے ذریعے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
آج ہنزہ ایک مخلص معلم، ایک شفیق رہنما اور ایک بے مثال سماجی کارکن سے محروم ہو گیا ہے، مگر ان کا چھوڑا ہوا علمی سرمایہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ یہی ایک استاد کی اصل کامیابی اور دائمی زندگی ہے۔
اللہ تعالیٰ استاد مہر کریم مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔
"چراغ بجھ جاتے ہیں، مگر ان کی روشنی نسلوں تک راستہ دکھاتی رہتی ہے۔ استاد مہر کریم بھی ایسا ہی ایک چراغ تھے۔”






