پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو پاکستان کا شہری تسلیم کیا گیا ہے، وزیر اعلی

اسلام آباد: وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان ریفارم 2018کے نفاز کے بعد گلگت بلتستان ملک کے دیگر صوبوں کے برابر ہوگا ،پنجاب ،سندہ بلوچستان اور کے پی کے کے جو اختیارات ہیں وہی گلگت بلتستان کے ہوں گے ،اپوزیشن منفی پروپگنڈے سے عوام کو گمرا کر رہی ہے اپوزیشن کو امید نہیں تھی کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں جی بی کو مالی ۔انتظامی اور سیاسی اختیارات ملیں گے جیسے ہی انہیں پتا چلا کہ مسلم لیگ ن باقی وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی پورا کرنے جا رہی ہے تو مخالفین بھوکھلا گئے ان کے پاس جی بی ریفام کے حوالے سے غلط تشریح کر کے ہمدردیاں حاصل کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا اسی سوچ کے تحت سو شل میڈیا اور اخبارات میں منفی پروپگنڈہ شروع کر دیا لیکن عوام نے اپوزیشن کا منجن مسترد کر دیا ہے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز اسلام آباد میں صحافیوں اور یوتھ کے وفودسے گفتگو میں کیا ،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بالکل غلط اور منفی پروپگنڈہ کر رہی ہے ،آئین کے مطابق ملک کے باقی صوبوں کے جو اختیارات وزیر اعظم کے پاس ہیں وہی اختیارات گلگت بلتستان کے بھی وزیر اعظم کے پاس ہیں ،آئین کے شیڈول فور اور شیڈول فائیو کے تحت صوبوں اور وفاق کے اختیارات معین ہیں اس سے کوئی تجاوز گلگت بلتستان کے لئے نہیں ہوا ہے ،تاریخ میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے سنجیدہ کوشش مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ہوئی یہ ان کوششوں کا نتیجہ ہے کہ گلگت بلتستان کو مالی اختیارات بھی ملے ہیں اور انتظامی بھی ،پہلے ایک چھوٹے سے منصوبے کیلئے بھی کشمیر افئیر کے دروازے کھٹکٹانے ہوتا تھا لیکن اب یہ تمام اختیارات گلگت بلتستان کو مل چکے ہیں ،پہلی مرتبہ ملک کے تمام مالیاتی اداروں میں گلگت بلتستان کو نمائندگی مل رہی ہے ،پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو پاکستان کے شہری تسلیم کیا گیا ہے اب گلگت بلتستان کے شہری اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لئے سپریم کورٹ میں جا سکتے ہیں ،پہلی مرتبہ جو اختیارات پنجاب اسمبلی اور پنجاب کے وزیر اعلی پنجاب کے ہیں وہ گلگت بلتستان اسمبلی کو اور وزیر اعلی کو ملے ہیں ،حق حکمرانی کا جو تصور تھا اس کا آغاز ہو چکا ہے اب گلگت بلتستان کے وسائل کے مالک گلگت بلتستان کے شہری ہیں اور ہم نے امن و اتحاد سے گلگت بلتستان کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ترقی کی منزلیں طے کرنی ہیں ،عدالتی حوالے سے ریفارم ہو چکی ہیں چیف کورٹ ہائی کورٹ گلگت بلتستان بن چکا ہے اور ججوں کی تعداد بھی 7ہو چکی ہے ،گلگت بلتستان کے آفیسران کو بھی موقع مل چکا ہے کہ وہ دوسرے صوبوں میں جا کر اپنی خدمات انجام دیں اور ترقی کی منزلیں طے کریں ۔

وزیر اعلی نے کہا کہ اس ریفام کے بعد گلگت بلتستان کے عوام مکمل صوبائی خود مختاری کے حامل ہوں گے ،وزیر اعلی نے اس پروپگنڈے کو رد کیا کہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نئے آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کی زمینوں پر وفاق کا اختیار ہوگا یہ جھوٹا پروپگنڈہ ہے اب نئے آرڈر کے بعد وفاق کو کوئی زمین ضرورت ہو تو گلگت بلتستان حکومت سے رجوع کرے گی اب گلگت بلتستان کے شہری کے علاوہ گورنر کوئی نہیں بن سکے گا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ حق ملکیت کے جذباتی نعرے سے ہمارے مخالفین عوام کی ہمدردیاں حاصل کر رہے ہیں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ حق ملکیت کے سب سے بڑی محافظ ہے جس نے پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کی آٹھ لاکھ ایکڑ زمین آباد کر کے عوام کو دینے کا منصوبہ بنایا ہے ۔حق ملکیت کا نعرہ جھوٹ پر مبنی ہے ،زمینوں کی محافظ مسلم لیگ ن ہی ہے جو پہلی مرتبہ زمینوں کے تنازعات حل کرنے کیلئے لینڈ ریفارم کمیشن بنا چکی ہے جس کے تحت عوام کو ان کا حق ملے گا ،وزیر اعلی نے کہا کہ اپوزیشن اپنی طرف سے جی بی ریفارم آرڈر کے حوالے سے اپنی من پسند تشریحات کر کے عوام کو ان کے حقوق سے دور رکھنا چاہتی ہے ،اپوزیشن کے پاس اپنی سیاسی زندگی کے لئے کوئی ایشیو بچا نہیں ہے مسلم لیگ ن نے اپنے انتخابی منشور میں کئے گئے تمام وعدوں پر عمل کیا ہے ایسے میں اپوزیشن کے ہاتھ کچھ بچا نہیں جس سے عوام کو گمراہ کرسکے اس لئے آسان حل تلاش کر لیا کہ اس آرڈر کی غلط تشریح کر کے سیاسی منجن فروخت کیا جائے جس میں انشا اللہ ناکام ہوں گے کیونکہ اپوزیشن کی جی بی ریفارم کے حوالے سے تمام تشریحات جھوٹ پر مبنی ہیں ،انہوں نے کہا ہے انشا اللہ جی بی ریفارم آرڈر کو مستقبل میں عوام سے ،مشاورت کے بعد گلگت بلتستان کے لئے آئین بنائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے کھبی گلگت بلتستان کو پانجواں صوبہ بنانے کا نعرہ نہیں لگایا ہے حقوق کے حوالے سے وعدہ کیا تھا جو پورا ہونے جا رہا ہے وزیر اعلی نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے گلگت بلتستان کے رہنما عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں اور نعرہ لگاتے ہیں کہ گلگت بلتستان کوآئینی صوبہ بنائیں گے اگر گلگت بلتستان آئینی صوبہ بن سکتا ہے تو اپنے دور حکومت میں کیوں نہیں بنایا اور وفاق میں پیپلز پارٹی کے رہنماوں کا موقف گلگت بلتستان پیپلز پارٹی سے مختلف کیوں ہے ،مسلم لیگ ن کا وفاق میں بھی اور گلگت بلتستان میں بھی موقف ایک ہی ہے ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے گلگت بلتستان کے رہنما گلگت بلتستان میں عوام کو گمراہ کرنے سے پہلے وفاق میں اپنی پارٹی رہنماوں اورحکومتوں سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ گلگت بلتستان کے حقوق میں رکاوٹ کیوں ڈالتے ہیں ،وزیر اعلی نے کہا کہ عوام سے سچ بولیں جھوٹ کی سیاست اب نہیں چلے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments