گلگت بلتستان کے انتخابات پر بھارتی اعتراض مسترد، وزیر اطلاعات کا نئی دہلی کو دوٹوک جواب
سکردو (نمائندہ خصوصی) وزیر اطلاعات گلگت بلتستان غلام عباس نے بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ اور زمینی حقائق سے لاعلمی کا مظہر قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ گلگت بلتستان بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے اس بیان کو یکسر مسترد کرتی ہے جس میں گلگت بلتستان کے شیڈول عام انتخابات پر نام نہاد "احتجاج” کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کا یہ مؤقف نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے بلکہ خطے کی تاریخی اور سیاسی حقیقتوں سے بھی مکمل طور پر متصادم ہے۔
غلام عباس نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے 1947 میں ڈوگرا راج کے خلاف اپنی آزادی کی جدوجہد خود لڑی تھی اور اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 7 جون 2026 کو ہونے والے عام انتخابات عوام کے جمہوری حق کا اظہار ہیں اور ایک آزاد، شفاف اور آئینی سیاسی عمل کا حصہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کو ایک پرامن اور جمہوری عمل پر اعتراض کرنے کا کیا حق حاصل ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی ستم ظریفی ہے کہ وہ ملک گلگت بلتستان کے عوام کو جمہوریت اور حقوق کا درس دینے کی کوشش کر رہا ہے جس نے، ان کے بقول، غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے، جہاں سیاسی قیادت کو قید اور اختلافی آوازوں کو طاقت کے ذریعے دبایا جاتا ہے۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ مؤقف دراصل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور اپنی گرتی ہوئی بین الاقوامی ساکھ سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنی دھرتی اور پاکستان کی سلامتی کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی قسم کی دھمکی یا دباؤ ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے بھارتی وزارتِ خارجہ کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات اور گلگت بلتستان کے جمہوری عمل میں مداخلت کرنے کے بجائے اپنے ملک کے اندرونی مسائل، لداخ کی صورتحال اور مقبوضہ کشمیر میں جاری حالات پر توجہ دے۔
غلام عباس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان میں انتخابات شیڈول کے مطابق، پرامن ماحول، آزادانہ انداز اور عوامی جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوں گے، اور بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کا اعتراض یا مہم اس جمہوری عمل کو متاثر نہیں کر سکے گی۔






