اسٹنٹ کمشنر یاسین سے چند سوال

گزشتہ روز یاسین میں اسسٹنٹ کمشنر سہرش رحمت صاحبہ نے ایک اچھی کارروائی کی، مختلف دکانوں سے غیر معیاری اور ایکسپائر اشیاء پکڑ کر انہیں کھلے عام آگ لگا دی۔

سب سے پہلے تو اس اقدام کی تعریف بنتی ہے، کیونکہ عوام کی صحت سب سے اہم ہے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا کھلے عام جلانا ہی اس کا واحد حل ہے؟

محترمہ سے پہلے بھی ایک AC صاحب آئے تھی انہوں نے بھی اسی نوعیت کے دورے اور چھاپے مارے تھے۔ لیکن مسئلہ اب بھی وہی کھڑا ہے۔

دیکھیں، یاسین خوبصورت وادی ہے۔ جب آپ کھلے عام پلاسٹک، پاپڑ اور دیگر چیزیں جلاتے ہیں تو اس سے شدید فضائی آلودگی پھیلتی ہے، جو ہمارے ماحول کے لیے زہر ہے۔ اس کو ٹھکانے لگانے کا کوئی بہتر، سائنسی طریقہ ہونا چاہیے۔

اس کے علاوہ میرا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یاسین میں داخل ہونے کا ایک ہی راستہ ہے، اس کے علاوہ کسی اور راستے سے یہ سامان یاسین نہیں پہنچتا۔ سیلی ہرنگ کے مقام پر پولیس چیک پوسٹ ہے، جہاں پولیس اہلکار دن رات ڈیوٹی دیتے ہیں۔

وہ ایک ایک گاڑی روکتے ہیں، شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں، گاڑی کا نمبر نوٹ کرتے ہیں۔ ان کے پاس مکمل معلومات ہوتی ہیں۔

تو AC صاحبہ ان پولیس اہلکاروں کو ہدایت کیوں نہیں کرتیں کہ ان غیر معیاری چیزوں کو یاسین میں داخل ہی نہ ہونے دیا جائے؟

انہیں تو پتہ ہوتا ہے کہ کون سا دکاندار، کون سا گاڑی والا غیر معیاری پاپڑ اور دیگر سامان یاسین لے کر جا رہا ہے۔ وہیں پر روکا جائے تو یہ مسئلہ جڑ سے ختم ہو جائے گا اور یہ صرف پاپڑ کی بات نہیں ہے۔

یاسین کی دکانوں میں کھلے عام غیر معیاری کھانے کا تیل، دودھ، کولڈ ڈرنکس، بسکٹ اور کئی ایسی چیزیں بک رہی ہیں جو ہماری صحت کے لیے خطرناک ہیں۔ انہی کی وجہ سے آج ہمارے ہاں بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔

اس میں دکانداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خدارا صرف چند روپے منافع کے لیے لوگوں کی صحت سے مت کھیلو۔ اور عوام کو بھی چاہیے کہ ایسی چیزوں کا بائیکاٹ کرے اور نشاندہی کرے۔

میری AC یاسین گوپس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سے گزارش ہے آپ کا ایکشن اچھا ہے، لیکن اس کا طریقہ کار بدلیں۔

سیلی ہرنگ چیک پوسٹ پر سخت چیکنگ کی جائے۔
غیر معیاری اشیاء لانے والوں پر بھاری جرمانہ کیا جائے۔
دکانداروں کے لیے آگاہی سیشن رکھا جائے۔
اور ضبط شدہ سامان کو کھلے عام جلانے کے بجائے مناسب طریقے سے تلف کیا جائے۔
یاسین کو صاف رکھنا صرف انتظامیہ کا نہیں، ہم سب کا کام ہے۔ میری یاسین کے نومنتخب نمائندہ امان علی عامر سے بھی گزارش ہے کہ وہ علاقے میں اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کریں کیونکہ نوجوانوں کی بڑی امیدیں ان سے ہیں اور یاسین کے عوام نے بھاری اکثریت سے ان کو جتایا ہے۔

آپ کی رائے

comments

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button