کالمز
-
جب جامعات پہاڑوں تک پہنچیں
یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے نامور اور کامیاب تعلیمی ادارے مختلف ممالک اور اپنے ملک کے…
مزید پڑھیں -
80s کی یادیں۔۔۔ ایک تصویر، ایک زمانہ، ایک پوری دُنیا!
تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر سوشل میڈیا پر آج کل ایک خوب صورت ٹرینڈ چلا ہے80s ۔۔۔ کی زندگی کیسی…
مزید پڑھیں -
اپر چترال گرلز کالج: عوامی مفاد یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ؟
سید اولاد الدین شاہ اپر چترال میں لڑکیوں کے لیے الگ کالج کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، لیکن…
مزید پڑھیں -
17ہزار چیخیں اور 6 فیصد انصاف ، جب گلگت بلتستان بھی محفوظ نہ رہا
اسلام آباد میں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس صرف ایک اجلاس نہیں تھا بلکہ پورے پاکستان…
مزید پڑھیں -
وزیرِ تعلیم امان علی عامر کا اصل امتحان
تحریر: شیرنادر شاہی سیاست میں کامیابی منزل نہیں، ایک نئے سفر کا آغاز ہوتی ہے۔ انتخابات کے دوران عوام امیدواروں…
مزید پڑھیں -
وہ خط جو ہر حکمران کو پڑھنا چاہیے۔۔۔
گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل ہونے کے بعد انتخابی شور تھم چکا ہے۔ حکومت نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال…
مزید پڑھیں -
پہاڑوں کی خاموش محافظ: صنفی مساوات ایک ماحولیاتی مسئلہ کیوں ہے
زرینہ اشرف "اس کی مال مویشی چراتے چراتے پہاڑی چراگاہ پر ہی زچگی ہو گئی۔” ہوشے کی ایک خاتون…
مزید پڑھیں -
مصنوعی ذہانت کے دور میں ہمارے اسکول کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟
نجف علی شرقی کبھی گلگت بلتستان کے کسی دور دراز اسکول کی صبح کا منظر ذہن میں لائیے۔ پہاڑوں کے…
مزید پڑھیں -
اُستاد وزیر فدا علی ایثار، یادوں کے دریچوں سے!
تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر ہاسس پونیال کے پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر ابھی سورج کی اوّلین سنہری کرنیں اُتر…
مزید پڑھیں -
کان کنی کے نام پر چترال کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے
ایک طرف حکومت چترال کے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔…
مزید پڑھیں